سوشل میڈیا پر اکثر ایسی خبریں صارفین کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں، جو کہ سب کو افسردہ کر دیتی ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
سوشل میڈیا پر 11 سال کی بچی کا آخری خط سب کو افسردہ کر رہا ہے، جس میں بچی نے اپنی جان لینے سے پہلے والدین کو مخاطب کر کے کچھ ایسا لکھا کہ سب کو رلا دیا۔
اکثر والدین بچوں سے لاڈ و پیار میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ بھول جاتے ہیں کہ کہیں یہ بچے سے زیادہ پیار اور لاڈ دوسرے کے دل میں احساس محرومی کا باعث نہ بنے۔
ایسا ہی کچھ اس 11 سالہ بچی کے ساتھ بھی ہوا ہے، صارف آصف جاوید کی جانب سے بچی کی تصویر اور وہ خط اپلوڈ کیا گیا تھا جس میں ننھی پری نے اپنے ساتھ پیش آئے لمحات کو قلم بند کیا۔
بچی نے لکھا کہ مجھے میرے والدین سے نفرت ہے کیونکہ پہلے مجھے سر درد ہوا اور میری بہن کو بھی ہوا، لیکن امی نے بہن کا خیال رکھا اور کہا کہ تم ٹیوشن مت جاؤ، لیکن میرا خیال نہیں کیا اور مجھے ٹیوشن بھیج دیا، جب میں موبائل دیکھتی تو میرے والد مجھ پر غصہ ہوتے، لیکن بہن پر نہیں ہوتے۔
طالبہ نے آگے مزید لکھا کہ کھانے کے وقت اگر بہن کھانا نہیں کھاتے تو والدین اسے کچھ نہیں کہتے تھے، لیکن اگر میں نہیں کھاتی تو والدین مجھے ڈانٹتے تھے۔ جب میں اوپر جاتی تو میری والدہ مجھے باتیں سناتی، اگر میں اپنے بھائی کے ساتھ کھیلتی تو ابو غصہ ہوتے، اسی وجہ سے میں مجھے ان سے نفرت ہے۔ میں خودکشی کرنے چاہتی ہوں مگر ہمت نہیں ہے۔
اگرچہ ممکنہ طور پر والدین کا۔بھی کوئی موقف ضرور ہوگا یا عین ممکن ہے بچی ہر چیز کو سنجیدہ لے لیتی ہو، تاہم اس عمر میں جب بچے تربیت کی عمر میں ہوتے ہیں، ایسے خیال آنا معاشرے پر بھی سوالیہ نشان ہے۔