ہم موت کے وقت کو یاد نہیں کرتے ہیں ۔۔ مشہور شخصیات کے وہ الفاظ جو ان کے انتقال کے بعد سب کو افسردہ کر گئے

image

مشہور شخصیات کی زندگی میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہوتے ہیں، جو کہ ان کے انتقال کے بعد بھی سب کو یاد آتے ہیں۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو چند مشہور شخصیات کے آخری وقت سے متعلق بتائیں گے۔

امجد اسلام امجد:

امجد اسلام امجد ویسے تو سب کی توجہ اپنے اشعار کی بدولت حاصل کر لیتے تھے، تاہم آخری دنوں میں وہ اللہ کے گھر خانہ کعبہ اور مدینہ منورہ بھی گئے۔

مسجد نبوی ﷺ میں ویل چئیر پر موجود اس ویڈیو میں امجد اسلام امجد کو دیکھا جا سکتا ہے جو کہ مسجد نبوی ﷺ کے صحن میں ہاتھ اٹھائے دعا تو مانگ ہی رہے ہیں ساتھ ہی آقائے دو جہاں ﷺ سے عقیدت کے طور پر کچھ اشعار بھی پڑھے۔

"ریاض الجنہ میں ان کی حاضری میں حضوری کا گہرا رنگ تھا اور اپنی نظم لبیک مدینہ منورہ میں" میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں"۔

دردانہ بٹ:

زندگی سے متعلق دردانہ کہتی تھیں کہ زندگی ایک تکلیف دہ سفر ہے، اور اس تکلیف کو برداشت کرنا سیکھیں۔ میری تکلیف کا مرحم میرا مرشد ہے، صحیح مرشد ملنا خوش قسمتی ہے۔ اللہ کا کرم اسی وقت ہوتا ہے جب بندہ خود اللہ کی طرف آںے کے لیے جدوجہد کرے۔ میں بہت طاقتور ہوں مگر میں حساس بھی ہوں۔

لیکن میرے آپریشن نے مجھے رُلا دیا تھا، میں بہت روئی تھی۔ ہم جب بھی گھبراہٹ کا شکار ہوتے ہیں وہ ایمان کی کمزوری سے ہوتی ہے۔ دردانہ بٹ موت سے متعلق کہتی تھیں کہ ہم موت کے آںے کو یاد نہیں کرتے، سب سے بڑا ڈر یہی ہے کہ موت نے آنا ہے۔ مگر ہم مانتے نہیں ہیں۔

عبدالستار ایدھی:

پاکستان میں سماجی کاموں میں سب کو بڑھاوا دینے والے اور آئیڈیل بننے والے عبدالستار ایدھی نے جہاں دنیا بھر میں توجہ حاصل کی، وہیں ان کی آخری وصیت نے بھی سب کو افسردہ کر دیا۔

اسٹائل ڈاٹ پی کے کی رپورٹ کے مطابق ایدھی صاحب کے بیٹے نے والد کی آخری وصیت سے متعلق بتایا کہ والد کی وصیت تھی، کہ انہیں انہی کپڑوں میں دفن کر دیا جائے، جو وہ پہنتے تھے، جبکہ ان کے جسم کو بھی عطیہ کر دیا جائے، لیکن صرف ان کی آنکھیں ہی عطیہ ہو سکی تھیں۔

ان کی خواہش تھی کہ پاکستان خوب ترقی کرے، خوشحال رہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان:

ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی محسن پاکستان تو تھے ہی ساتھ ہی ان کی شخصیت سب پر غالب آ جاتی تھی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا آخری خط بھی سب کو جذباتی کر رہا ہے، جو کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو لکھا تھا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ آپ کی نیک خواہشات اور پھولوں کے گلدستہ مجھے ملا، جس پر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ ساتھ ہی لکھا کہ وزیر اعظم، دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ بھی میری صحت یابی کے لیے پُر امید ہیں۔

ان کے اس آخری خط میں بھی وہ سب سے خوش اخلاقی سے بات کرتے محسوس ہوئے۔

نصرت فتح علی خان:

مشہور پاکستانی قوال نصرت فتح علی خان کو دنیا بھر میں ان کی قوالی خوب مقبولیت دلائی، تاہم ان کی وجہ شہرت نعت رسول سے بھی ہوئی۔

نصرت فتح علی خان 1997 میں جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے، لیکن وہ لندن کڈنی اور جگر کے علاج کے سلسلے میں گئے تھے، تاہم کارڈیاک اریسٹ کی وجہ سے جہان فانی سے کوچ کر گئے۔

والد کے ساتھ بتائے لمحات کو یاد کرتے ہوئے بیٹی ندا بتاتی ہیں کہ مجھے کلر پنسلز کا بے حد شوق تھا، بابا میرے اس شوق کو پورا کرتے تھے۔ وہ جب کبھی بیرون ملک جاتے تو مہنگے اور مشہور برانڈز کے کلر پنسلز لے کر آتے تھے۔ کئی کلر بکز لاتے۔ ان کے سامان میں آدھا سامان میرا ہوا کرتا تھا۔

وہ کام کی وجہ سے فیملی کو وقت نہیں دے پاتے تھے مگر انہیں اس بات کا احساس تھا۔ ایک موقع پر والد جب بیرون ملک سے شو کر کے آ رہے تھے تو ان کا کہنا تھا کہ اب میں اپنی بیٹی کے ساتھ وقت گزاروں گا۔ ندا نے بابا سے پوچھا کہ بابا اب آپ کتنے دنوں تک میرے ساتھ رہیں گے جس پر نصرت فتح علی خان زار و قطار رونے لگے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US