“میں وہ بچی ہوں جسے اس کے سگے ماں باپ نے چھوڑ دیا تھا کیوں کہ میرے دل میں پیدائشی سوراخ تھا اور اتنی کمزور تھی کہ ساری ہڈیاں باہر کو نکلی ہوئی تھیں یہاں تک کہ بھوک کی کمی سے زبان کا رنگ بھی جامنی پڑچکا تھا“
یہ کہنا ہے ٹیا بھاٹیا کا جن کا تعلق بھارت سے ہے۔ ٹیا نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی زندگی کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سگے والدین نے انبالہ کے یتیم خانے میں جمع کروادیا تھا کیوں کہ وہ مجھ جیسی بیمار بچی کو نہیں پالنا چاہتے تھے لیکن پھر ٹورونٹو سے ایسا پنجابی جوڑا یتیم خانے آیا جس نے مجھے گود لیا اور آج میرے لئے وہی میرے حقیقی ماں باپ ہیں۔
گود لینے کے لئے آئے والدین کو یتیم خانے نے جو پہلا بچہ دکھایا وہ میں تھی اور میری حالت ٹھیک نہیں تھی لیکن میرے لے پالک ماں باپ نے کسی اور بچے کو دیکھنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ یتیم خانے والوں نے بھی کہا کہ اس بچی کے بجائے کسی اور بچے کو گود لے لیں۔ دل میں سوراخ کی وجہ سے میرے والدین اپنے ساتھ باہر بھی نہیں لے جاسکتے تھے۔ والد نے یتیم خانے والوں کو جواب دیا کہ “یہ بچہ ہے کوئی چیز نہیں میں اس کا خود علاج کرواؤں گا اور تن تک یہاں رہوں گا جب تک میری بیٹی ساتھ چلنے کے لئے صحت مند نہیں ہوجاتی“
اس کے بعد میرا مکمل علاج کروایا گیا اور دل کی سرجری کی گئی اس کے بعد میں اپنے والدین کے ساتھ ٹورونٹو چلی گئی۔ انھوں نے خاندان والوں کے طعنے سنے لیکن میری بہترین پرورش کی۔ کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں ان کی سگی بیٹی نہیں۔ میں جو کچھ بھی ہوں سب ان کی بدولت ہے۔ جب کوئی ماما پاپا سے کہتا ہے کہ میں ان کی طرح ہوں تو وہ دونوں بہت خوش ہوتے ہیں۔