اکثر والدین اپنے بچوں سے اس حد تک محبت کرتے ہیں کہ ایسی نوکری تک نہیں کرنے دیتے، جس میں ان کی جان کو خطرہ ہو، لیکن پاکستان آرمی کے جوانوں کے والدین دل پر پتھر رکھ کر انہیں اجازت دیتے ہیں۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
ایک ایسی ہی ماں جس کا جوان بیٹا پاکستان آرمی میں وطن کی حفاظت کے لیے گیا تھا، ماں کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر شہدا میں شامل ہو گیا۔
اگرچہ یہ لمحہ ایک ماں کے لیے کسی بڑے مشکل لمحے سے کم نہ تھا، کیونکہ پہلے شوہر شہید ہوئے اور اب اکلوتا بیٹا بھی شہید ہو گیا، تاہم اس سب میں ماں کی ہمت اور حوصلے کو دیکھ یوں لگ رہا تھا کہ جیسے مزید بچے ہوتے تو انہیں بھی وطن کی راہ میں دے دیتیں۔
لیفٹینیٹ ناصر خالد شہید کے والد کی شہادت کے بعد والدہ نے بیٹے کو والد اور والدہ دونوں کا پیار دیا تھا، اور انہیں اس بات پر فخر ہے، کہ بیٹے نے دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے، اپنی جان تک قربان کر دی مگر انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
کیپٹن بلال ظفر شہید بھی ان شہید جوانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اس خیال کا اظہار اپنی ماں کے سامنے کیا تھا کہ ماں ایک دن پاک آرمی کے جوان میری لاش کو پاکستانی پرچم میں لے کر آپ کے پاس لائیں گے۔ جس پر ماں حیرت زدہ ہو کر کہنے لگیں کیا کہہ رہے ہو بلال؟
والدہ کا کہنا تھا کہ ایک دن بیٹی کے سسر نے فون کیا کہ ہم آج آپ کی طرف ناشتہ کرنے آرہے ہیں، جس پر میں نے سوچا کہ فوجی افسران تو اتوار کے روز گھر پر ہی ناشتہ کرتے ہیں پھر ۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے بلال شہید کی ماں کی آواز میں نرمی آگئی اور وہ بیٹی کے سسر سے کہنے لگیں کہ سچ بتائیں کیا بلال شہید ہو گیا ہے؟
والدہ کا کہنا ہے کہ بلال نے اپنی شہادت سے پہلے ہی سب کو بتا دیا تھا کہ تین دن سے زیادہ کوئی سوگ نہیں کرے گا، میرے جانے کے بعد میرے والدین کا خیال رکھنا اور میرے دفنانے کے چند روز میں ہی والدین کو گاؤں سے راولپنڈی لے آنا۔
دوسری جانب لیفٹیننٹ عمر شہزاد کی والدہ کو اب تک یہ لگتا ہے کہ بیٹا سیڑھیوں سے اوپر کی جناب آ رہا ہے۔
بھی گھر میں داخل ہو رہا ہے۔ یہ بات کہتے وقت وہ اس بات کو بھی سوچ رہی تھیں کہ میرا بیٹا اب کبھی نہیں مل پائے گا مجھے۔
شہید احمد مبین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کبھی دروازے پر گھنٹی بجتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ میرا لخت جگر آ گیا ہے، مگر پھر خیال آتا ہے کہ وہ تو اب آ ہی نہیں سکتا۔ والدہ بیٹے کو یاد کر کے رو جاتی ہیں۔
والدہ کا مزید کہنا تھا کہ مبین تو ایک دن میرے خواب میں بھی آیا تھا اور کہہ رہا تھا کہ امی رونا بند کر دیں۔ اگر وہ خواب میں نہ آئے تو مجھ سے صبر نہیں ہوتا اور رو دیتی ہوں۔
میجر مدثر کی والدہ کہتی ہیں کہ وہ مجھے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ مجھے مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ نظر آتے ہیں، جیسے کہ جھلک سی آئی ہو۔ مگر وہ کچھ کہتے نہیں ہیں بس مسکراتے ہیں۔ بات کوئی نہیں کرتے۔