پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر کے موبائل فون صارفین کے لیے اہم تنبیہی ہدایات جاری کرتے ہوئے اپنے نام پر رجسٹرڈ سم کسی دوسرے شخص کے استعمال کے لیے دینے سے خبردار کیا ہے۔
پی ٹی اے کے مطابق کسی بھی شہری کے نام پر رجسٹرڈ سم اگر غیر قانونی یا مجرمانہ سرگرمی میں استعمال ہوتی ہے تو اس کے قانونی نتائج سم ہولڈر کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے اپنی شناخت پر جاری ہونے والی سم کسی دوسرے فرد کے حوالے کرنا قانوناً جرم ہے۔
اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ باقاعدگی سے یہ معلوم کرتے رہیں کہ ان کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمیں رجسٹرڈ اور فعال ہیں۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk ویب سائٹ پر جا سکتے ہیں یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر، بغیر ڈیش (-) کے، 668 پر ایس ایم ایس کر کے تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر کسی کے نام پر کوئی نامعلوم یا غیر ضروری سم رجسٹرڈ ہو تو اسے فوری طور پر بلاک کروا دیا جائے۔
پی ٹی اے نے نئی سم خریدتے وقت بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارفین صرف مستند فرنچائز یا آفیشل کسٹمر سروس سینٹر سے ہی سم حاصل کریں اور اس بات کی تصدیق کریں کہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی اضافی سم رجسٹر نہ کی جا رہی ہو۔
اتھارٹی نے ایک بار پھر شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ مفت سم یا دیگر مراعات کا لالچ دے کر بائیو میٹرک تصدیق کرانے والے عناصر سے ہوشیار رہیں، کیونکہ ایسے افراد بائیو میٹرک معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مزید سمیں جاری کروا سکتے ہیں، جس کے قانونی اور مالی نتائج اصل صارف کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔