محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے یہ جملا اکثر ہم سنتے ہیں لیکن بھارت کے ایک جوڑے نے اس کو سچ کر دکھایا ہے۔ جہاں لڑکا مسلمان اور لڑکی ہندو تھی لیکن دونوں نے شادی کرلی اور اب دونوں ایک دوسرے کے مذہب کی عزت کرتے ہیں۔ لڑکا نماز پڑھتا اور روزے رکھتا ہے تو لڑکی بھی قرآن پڑھتی ہے۔ لڑکی ورت رکھے تو لڑکا اس کا ساتھ دیتا ہے، دونوں میاں بیوی مندر اور مسجد ایک ساتھ جاتے ہیں۔
اپنے انٹرویو میں دونوں نے بتایا کہ ہمیں ہمارے گھر والوں نے قبول نہیں کیا اس لیے ہم ان سے دور اور الگ رہتے ہیں۔ ہم نے سپیشل میرج ایکٹ میں شادی کی ہے جس میں نہ نام بدلتا ہے اور نہ مذہب ۔۔ اس کے تحت ہم دونوں ایک ساتھ خوش و خرم ہیں۔ اچھی زندگی گزر رہی ہے۔ نہ شوہر بیوی کو مسلمان ہونے پر زور دیتا نہ بیوی شوہر کو ہندو مذہب اپنانے کو بولتی بلکہ بیوی نے شوہر کو 5 وقت کی نمازوں کا پابند بنایا۔
لوگ مُحبت چھوڑ دیتے ہیں مگر مذہب کو نہیں چھوڑتے، ہم نے نہ مُحبت چھوڑی اور نہ مذہب بلکہ آسانی سے دونوں کو قبول کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی دین نہیں ہے۔