’صدی کی سب سے مہنگی طلاق‘: جنوبی کوریا کے کاروباری ٹائیکون کو سابقہ اہلیہ کو تقریباً 179 ارب روپے ادا کرنے کا حکم

ایس کے گروپ نے 1953 میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی کے طور پر آغاز کیا تھا، لیکن جلد ہی مختلف صنعتوں میں پھیل کر جنوبی کوریا کے سب سے بڑے کاروباری گروپس میں شامل ہو گئی۔

بڑی کاروباری کمپنی ایس کے گروپ کے چیئرمین کو جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے اپنی سابقہ اہلیہ روہ سو ہیونگ کو 944 ارب وون (483 ملین پاؤنڈ؛ 644 ملین ڈالر، تقریباً 179 ارب پاکستانی روپے) ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے اس مقدمے کو ’صدی کی سب سے مہنگی طلاق‘ قرار دیا ہے۔

یہ رقم، جس کی ابھی حتمی منظوری ہونا باقی ہے، اس ابتدائی 1.38 کھرب وون سے کم ہے جو 2024 میں چیئرمین چے تے وون کو روہ سو ہیونگ کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ فیصلہ ان کی شادی ٹوٹنے کے ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد سامنے آیا ہے۔

روہ سو ہیونگ، ایک سابق صدر کی بیٹی ہیں اور ان کی شادی اس انکشاف کے بعد ٹوٹ گئی تھی کہ چے تے وون ایک دوسری خاتون سے بچے کے والد بن چکے تھے۔

ایس کے گروپ، ایس کے ہائنکس کی مالک ہے۔ یہ سیمی کنڈکٹر کی بڑی کمپنی این ویڈیا کو چپس فراہم کرتی ہے اور حال ہی میں امریکی سٹاک مارکیٹ میں ریکارڈ ساز آغاز کر چکی ہے۔

چے تے وون کے وکلا نے کہا: ’چیئرمین چے تے وون کو اس بات پر بہت افسوس ہے کہ (طلاق کی) کارروائیوں نے اب تک بہت سے لوگوں کے لیے تشویش پیدا کی ہے۔ فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ہم اس پر اپنا تفصیلی ردعمل پیش کریں گے۔‘

ایس کے گروپ جنوبی کوریا کے ’چیبولز‘ میں شامل ہے، یعنی خاندانی ملکیت والے بڑے صنعتی و کاروباری گروپس جو ملک کی معیشت پر غلبہ رکھتے ہیں۔

Chey Tae-won, chairman of SK Group, speaking during the company's initial public offering at the Nasdaq MarketSite in New York in July
Bloomberg via Getty Images
ایس کے گروپ کے چیئرمین چے تے وون، جولائی میں نیویارک میں نیسڈیک مارکیٹ سائٹ پر کمپنی کی ابتدائی عوامی شیئر فروخت کے دوران خطاب کرتے ہوئے

یہ فیصلہ روہ سو ہیونگ اور چے تے وون کے درمیان اثاثوں کی تقسیم پر غور و خوض کے بعد سامنے آیا ہے، جو 35 برس تک شادی کے بندھن میں رہے تھے۔

2024 میں ہونے والی سابقہ سماعت کے دوران روہ سو ہیونگ کی قانونی ٹیم نے کامیابی سے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ چے تے وون کو ان کے سابقہ سسر روہ تے وو سے نمایاں مدد ملی تھی، جو 1988 سے 1993 تک جنوبی کوریا کے صدر رہے تھے۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ اس طاقتور رہنما نے 1991 میں اپنے خفیہ فنڈ سے چے تے وون کو 30 ارب کوریائی وون دیے تھے، اور چے تے وون کو اپنی سابقہ اہلیہ کو 1.38 کھرب وون ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

لیکن سپریم کورٹ نے گذشتہ سال یہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کہا کہ یہ خفیہ فنڈز غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے، اس لیے انھیں میاں بیوی کے مشترکہ اثاثوں کا حصہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

اس مقدمے نے جنوبی کوریا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے۔

ایس کے گروپ نے 1953 میں ایک ٹیکسٹائل کمپنی کے طور پر آغاز کیا تھا، لیکن جلد ہی مختلف صنعتوں میں پھیل کر جنوبی کوریا کے سب سے بڑے کاروباری گروپس میں شامل ہو گئی۔

آج یہ سام سنگ گروپ کے بعد ملک کا دوسرا بڑا چیبول ہے۔

جنوبی کوریا کے لوگ ایس کے ٹیلی کام کی موبائل سروسز استعمال کرتے ہیں اور اپنی گاڑیوں میں ایس کے کے پٹرول سٹیشنوں سے ایندھن بھرواتے ہیں۔

اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت کے دوران اس گروپ کی ذیلی کمپنی ایس کے ہائنکس عالمی توجہ کا مرکز بن گئی، جس کے بعد اس کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔

مئی میں چِپ بنانے والی اس کمپنی کی مالیت جنوبی کوریا کی سٹاک مارکیٹ میں ایک کھرب ڈالر (750 ارب پاؤنڈ) سے تجاوز کر گئی۔

جوں جوں ایس کے ہائنکس کی قدر میں اضافہ ہوا، ویسے ویسے ایس کے گروپ اور اس کے چیئرمین چے تے وون کا مقام اور حیثیت بھی بلند ہوتی گئی۔

گذشتہ ماہ صدر لی جے میونگ نے ایک تاریخی اے آئی سرمایہ کاری منصوبے کی رونمائی کے موقع پر چے تے وون کی تعریف کی اور انھیں اور سام سنگ کے چیئرمین جے وائی لی کو ’کوریا کے عوام کے ہیروز‘ قرار دیا۔

کمپنی نے نیویارک میں اپنے حصص کی فروخت کے ذریعے 26.5 ارب ڈالر بھی جمع کیے، جو امریکہ میں کسی غیر ملکی کمپنی کی اب تک کی سب سے بڑی فہرست بندی قرار دی گئی۔

بی بی سی نے مؤقف جاننے کے لیے ایس کے گروپ سے رابطہ کیا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US