والدین کو ڈھونڈا، مگر کوئی ملا ہی نہیں۔۔ عبدالستار ایدھی اور یتیم بچے کی کہانی، جو اب 4 بیٹیوں کا والد بن گیا ہے

image

ایدھی صاحب کا شمار دنیا کی مقبول ترین شخصیات میں ہوتا تھا، لیکن یہ شمار یوں ہی نہیں ہوتا تھا، اسکے پیچھے وجہ ہے، جس نے سب کو افسردہ تو کیا ہی ساتھ ہی حیران ہی۔

ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو عبدالستار ایدھی کے ساتھ پیش آئے ایک ایسے ہی واقعے کے بارے میں بتائیں گے۔

دنیا کی سب سے بڑی فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستار ایدھی کو یتیموں کا سہارا کہا جاتا تھا، کیونکہ ان کی یتیموں سے محبت ڈھکی چھپی نہ تھی۔

ایک واقعے نے ان کی یتیموں سے محبت خوب سب تک پہنچائی جب انہیں ایک یتیم بچہ ملا، بی بی سی کی جانب سے لالو کھیت کے بدر سے متعلق آرٹیکل پبلش کیا گیا تھا، جس کے مطابق سنہ 1985 میں کراچی میں ہونے والے لسانی ہنگاموں میں لالو کھیت کی ایک سڑک پر نومولود بچہ پڑا تھا، جسے چوکیدار سلیم نے اٹھا لیا۔

چوکیدار نے علاقے میں اس ڈیڑھ سالہ بچے کو اس کے پیاروں سے ملانے کی لاکھ کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکا، اور پھر تھک ہار بچے کو کورنگی ایدھی ہوم لے گیا، جہاں نومولود بچے کی پرورش ایدھی صاحب اور بلقیس ایدھی نے سنبھالی۔

یہ وہ وقت تھا جب کراچی میں دنگے فسار عروج پر تھے، ایسے میں کسی نومولود کا سڑک پر بچ جانا بھی غنیمت تھا، بہر حال اس نومولود بچے کا نام ایدھی صاحب نے بدر رکھا، بدر کی تعلیم و تربیت، پرورش ایدھی صاحب نے خود کی تھی۔

یہی وجہ تھی کہ بالغ ہونے کے بعد بدر کو یہ بھی بتایا تھا کہ اسے لالو کھیت کی ایک سڑک سے اٹھایا گیا تھا، جس کے بعد بدر نے اُس چوکیدار سمیت علاقے میں پوچھ گچھ بھی کی، مگر اسے اس کے خونی رشتے دار نہ مل سکے، اور اللہ کا شکر اداکر کے بدر ایدھی صاحب کے پاس آ گیا۔

یہ نوجوان آج 4 بچیوں کا باپ ہے، جس کا رشتہ بھی ایدھی صاحب اور بلقیس ایدھی نے خود کرایا تھا، اسے اپنا دوسرا بیٹا سمجھ کر پالا، اسے ہنر سکھایا اور اسکی شادی کرائی۔

ایدھی صاحب کے انتقال پر بدر کا ردعمل کچھ یوں تھا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا میں سچ مچ یتیم ہو گیا ہوں، میں ایدھی کو اپنا والد اور بلقیس اماں کو اپنی امی سمجھتا تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US