باتھ روم ایک ناپاک جگہ ہے جہاں مختلف قسم کے شیاطین یا غیر مخلوقات کا ہونا ایک عام بات ہے۔ اس بات کو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلمان بھی مانتے ہیں۔ باتھ روم میں ہم پاک ہونے، نہانے دھونے اور خود کو صاف کرنے کے لیے جاتے ہیں لیکن بذاتِ خود یہ گندگی جگہ تصور کیا جاتا ہے۔ اکثر ہم گھروں میں سنتے رہتے ہیں کہ سر ڈھانپ کر باتھ روم جائیں، وہاں بولیں نہیں، ہنسیں نہیں، روئیں نہیں یہاں تک کہ کسی قسم کی کوئی دوسری سرگرمی نہ کی جائے لیکن بڑے بوڑھوں کی باتوں پر کوئی کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
ایسی ہی ایک کہانی آج کل سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہے جس میں سکرین شاٹس شیئر کیے گئے ہیں۔ ان میں ایک شوہر کی آپ بیتی درج ہے وہ بتا رہے ہیں کہ میں اور میری بیوی ایک اچھی خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے تھے ہم دونوں اکیلے رہتے ہیں۔ اچانک میری بیوی کو شوق اٹھا کہ وہ باتھ روم میں گانے گائے اور گانے سُنے۔ میں نے اس کو ایک دو مرتبہ ٹوکا لیکن اس نے کہا اپنی دقیا نوسی سوچ کو چھوڑ دیں، ایسا کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن یہی غلطی اس کے گلے پڑ گئی اور آج وہ کافی عرصے سے تکلیف میں مبتلا ہے۔
خاوند لکھتے ہیں کہ ایک دن میری بیوی باتھ روم میں گانے گا رہی تھی، اچانک اس نے زور سے چیخ ماری، میں نے اس کو باہر نکالا اور وہ بیہوش ہوگئی۔ لیکن کچھ دنوں کے بعد اس کے باتھ روم سے چیخنے چلانے کی آواز آنے لگی اور جب میں وہاں گیا تو مجھے اس کی آواز اتنی بدلی ہوئی سی محصوس ہوئی جیسے کہ کوئی مرد زور دار آواز میں بات کر رہا ہو۔ میں نے اپنی بیوی کو جھنجھوڑا اور قرآن کی تلاوت لگا دی ، اس کو سُن کر وہ تکلیف میں آگئی اور بیہوش ہوگئی۔
میں اس کو مولوی صاحب کے پاس لے کر گیا، انہوں نے کلامِ پاک پڑھا تو وہ درد محسوس کرنے لگی اور بہت ہنگامہ کرنے لگی، میں اس کو گھر واپس لے کر جانے لگا۔ مولوی صاحب نے منع بھی کیا لیکن میں نے ان کی بات نہ مانی۔ یہ معاملہ ٹل گیا مگر پھر بھی اس کی گانے سننے کی عادت نہ گئی۔ میں پریشان ہوا مجھے کسی نے سفلی عمل کرنے والے ایک حضرت کے پاس بھیجا، میں ادھر گیا تو انہوں نے بتایا کہ اب جن آپ کی بیگم پر عاشق ہو چکے ہیں اور ان کی آواز پسند کرتے ہیں، اس لیے یہ ان کو نہیں چھوڑیں گے اور جب کلامِ پاک پڑھا یا سُنایا جائے گا بیگم یونہی تکلیف سے چیخے گی اور واویلا کرے گی۔ میں وہاں سے بھی واپس آگیا۔ اب میری بیوی کا علاج مولوی صاحب ہی کر رہے ہیں، اب بھی اکثر وہ ایسی حرکات کر بیٹھتی ہے۔
ان حرکتوں سے میں یکسر خوفزدہ ہو کر رہ گیا ہوں، میں اپنے دیگر بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ باتھ روم میں یا کسی بھی ناپاک جگہ پر ایسے کام نہ کریں جن کا نقصان ان کی موت پر ختم ہو۔ میری بیوی تکلیف میں ہے اور اس کی تکلیف دیکھ کر مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، مگر میں امید کرتا ہوں آپ لوگ اپنے اہل خانہ کو اس مشکل وقت سے بچا سکیں۔