ایدھی خاندان نے جہاں دنیا بھر میں انسانی کا پیغام عام کیا وہیں اب ان کی قبر بھی سب کو افسردہ کر رہی ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو بلقیس ایدھی کی قبر سے متعلق بتائیں گے۔
بلقیس ایدھی کا شمار ان چند بااثر مگر مڈل کلاس فیملی کی خواتین میں ہوتا تھا جو کہ نہ تو امیر تھیں اور نہ ہی فیشن کی دنیا میں رہنے والی خاتون، مگر پھر بھی دنیا جہاں کی سب سے متوجہ خاتون تھیں، جنہوں نے اپنے عمل سے نہ صرف ثابت کیا کہ ایک عورت کو طاقتور ہونے کے لیے اس کا باہمت ہونا ضروری ہے۔
ایدھی صاحب کے قدم قدم پر ان کا ساتھ دینے والی، بلقیس ایدھی جنہوں نے نہ صرف ان کی رحلت کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کو سنبھالا، بلکہ یتیم بچوں اور بچیوں کی دیکھ بھال میں بھی کوئی کمی نہ آنے دی۔
آج ان کے جانے کے بعد جہاں انہیں شدت سے یاد کیا جاتا ہے، وہیں ان کی قبر کے کتبے نے بھی سب کو افسردہ کر دیا ہے۔ بلقیس ایدھی کے پوتے سعد ایدھی بھی دادا دادی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اب ان کا مشن آگے لے کر بڑھ رہے ہیں۔
ساتھ ہی ساتھ دادی کی قبر پر بھی حاضری دینے اور فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں، ایک ایسی ہی تصویر سعد نے اپلوڈ کی جس میں بلقیس ایدھی کی قبر پر اب پکی ہو چکی ہے اور سفید رنگ کے ماربل کے ٹائلز لگ چکے ہیں۔
ساتھ ہی قبر کے کتبے کے عقبی طرف بلقیس کی ایدھی کی کہانی چند الفاظ میں لکھی ہے، "بلقیس ایدھی نے اپنے خاوند عبدالستار ایدھی کے ساتھ مل کر تمام زندگی دکھی انسانیت کی خدمت میں وقف کر دی اور پوری دنیا میں انسانیت اور اپنے ملک کا نام روشن کیا۔
ساتھ ہی نیچے شعر بھی درج ہے، "بچھڑی کچھ اس ادا سے کہ رُت ہی بدل گئی
ایک ماں سارے شہر کو ویران کر گئی"۔