مسجد کی کھڑکی بتاتی ہے کہ عید کا چاند کون سا ہے۔ چاند کا بتانے والی اس 200 سال پرانی مسجد کو بنانے میں اونٹنی کا دودھ کیوں استعمال کیا گیا تھا؟

image

یہ مسجد کم سے کم 200 سال پرانی ہے اور اس کی خاص بات یہ ہے کہ مسجد کے اندر 2 کھڑکیاں بنی ہیں جو چاند کا صحیح اندازہ کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ یہ دونوں کھڑکیاں ساتھ ساتھ بنی ہیں۔ اگر دائیں والی کھڑکی سے چاند نظر آجائے تو29 دن کا ہوگا اور اگر بائیں والی کھڑکی سے نظر آیا تو چاند 30 دن کا کہلائے گا“

یہ کہنا ہے محمد رمضان کمبوہ کا جو اس خوبصورت اور تاریخی مسجد کے بارے میں بھرپور معلومات رکھتے ہیں۔ اس مسجد کا نام محراب مسجد ہے اور اسے سردار محراب خان نے 1780 میں تعمیر کروایا تھا۔ محراب مسجد سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے علاقے ہالانی میں واقع ہے۔

سردار نے مزدوروں کو حکم دیا کہ

محمد رمضان نے انڈیپینڈنٹ اردو سے مسجد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب سردار محراب اس مسجد کو بنوا رہے تھے تب انھوں نے مزدوروں کو اس بات کا حکم دیا کہ ایک پوشیدہ حجرہ بنایا جائے جہاں سے چاند کی تاریخ کا صحیح اندازہ کیا جاسکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اگر مسجد کے اندر بنی دائیں کھڑکی سے چاند دکھائی دے تو وہ 29 جبکہ بائیں کھڑکی سے دکھنے والا چاند 30 کا ہوتا ہے۔

اونٹنی کا خالص دودھ

اس مسجد میں 15 لاکھ مسلمانوں کے لئے نماز کی ادائیگی کی جگہ موجود ہے۔ اس کی تعمیر کے حوالے سے تاریخ دان کہتے ہیں کہ مسجد کی دیواریں بناتے ہوئے پانی کے بجائے اونٹنی کے خالص دودھ کا استعمال کیا گیا تاکہ دیواروں میں مضبوطی اور خوشبو رہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US