بیٹے کی خاطر باپ کی جان نہیں لے سکتی.. اولاد کی پرواہ کیے بغیر بیٹی نے باپ کو جگر دے کر نئی مثال قائم کردی

image

"میرا 2 سال کا بیٹا ہے۔ جب پاپا کو اپنا جگر عطیہ کرنے لگی تھی تب بیٹا بہت ڈر گیا تھا۔ میری ماں کہتی تھیں کہ اگر تمھیں کچھ ہوگیا تو؟ بیٹے کا سوچ کر مجھے بھی گھبراہٹ ہوتی تھی لیکن میں نے باپ کی خاطر ہر قربانی دینے کا سوچ لیا تھا"

یہ کہنا ہے روہنی کا جن ک تعلق بھارت سے ہے۔ چند سال پہلے 68 برس کی عمر میں روہنی کے والد کہ اچانک طبعیت خراب ہوگئی جس کے بعد ڈاکٹر نے انھیں جگر ٹرانسپلانٹ کروانے کہ تاکید کی اور اتفاق سے روہنی کا جگر باپ سے میچ بھی ہوگیا لیکن اس میں روہنی کی جان کو بھی خطرہ تھا۔

روہنی کہتی ہیں کہ ان کے والد نے انھیں روکنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ نہیں مانیں۔ "جب مجھے ضرورت ہوتی تھی تو پاپا ہی ہمیشہ مدد کرتے تھے۔ اب ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ پاپا کو ضرورت ہے اور میں ان سے منہ پھیر لوں"

پاپا نے 14 گھنٹے بعد آنکھیں کھولیں تو

روہنی نے اپنا جگر والد کو عطیہ کیا اور ان کا کہنا ہے کہ 14 گھنٹے بعد جب پاپا نے آنکھیں کھولیں تو ہم سب کو لگا جیسے نئی زندگی مل گئی ہے۔ مجھے بھی اپنی صحت کو سنبھالنے میں بہت عرصہ لگا لیکن باپ کی محبت کا جذبہ سب پر حاوی تھا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US