میری بیٹی کی میت گھر پڑی رہی کوئی ساتھ دفنانے نہیں آیا ۔۔ امام مسجد کی زندگی کیسے گزرتی ہے؟ کہانی آپ کو رلا دے گی

image

امام مسجد کا اپنا ایک رتبہ و مقام ہوتا ہے اور ہر نمازی ان کی عزت کرتا ہے۔ ہزاروں افراد مسجد کے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔ اگر کوئی پریشانی کی بات ہو تو امام صاحب سے رجوع کرتے ہیں۔

مگر ہماری ویب ڈاٹ کام میں آپ کو ایک ایسے امام کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جن کی دردناک داستان اور مشکلات نے سب کو رلا دیا۔

امام قاری نظیر احمد نے ڈیجیٹل پاکستان کےویب چینل کو انٹرویو میں بتایا کہ مجھے امام کرواتے ہوئےچالیس بیالیس سال ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ میری زندگی کا ایک عرصہ امامت کرواتے گزر گیا ہے۔ امام صاحب نے بتایا کہ مجھے سالانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے سالانہ تنخواہ میں چالیس من گندم دی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ لوگ راشن نہیں دیتے۔ وہ لڑتے ہیں بدتمیزی بھی کرتے ہیں کوئی اخلاق سے بھی بات کرتا ہے۔ امام قاری نظیر کا کہنا تھا کہ پہلے لوگ قاری صاحب سے ہر چیز سے متعلق مشورہ کرتے تھے ، یہاں تک کہ شادی بھی قاری صاحب سے پوچھ کر کی جاتی تھی لیکن آج کے دور میں کوئی نہیں پوچھتا۔

امام قاری نظیر احمد نے بتایا کہ ان کے دس بچے ہیں جن میں سے چھ بچیوں کی شادی ہوگئی ہے اور دو لڑکوں کی شادیاں ہوگئی ہیں۔

انہوں نے مشکل وقت کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمیں فاقے کاٹنے پڑے۔ ایک پاؤ دودھ سے پوری فیملی چائے پیتی تھی۔ اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ لگاتار چار ماہ تک دال کھا کر گزارہ کرتے رہے۔

امام قاری نظیر نے اپنی انتقال کر جانے والی بیٹی سے متعلق بتایا کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میری بیٹی بیمار تھی، اس کا علاج کراتے رہے ، بچی فوت ہوگئی ، پھر اس کا جنازہ مسجد کے سامنے پڑھایا گیا۔ اس دوران میں نے زمیددار سے کہا کہ مجھے بیٹی کی میت قبرستان لے کر جانی ہے مجھے ٹریکٹر ٹرالی دے دیں ، جس پر زمیددار نے امام سے کہا کہ کیا ٹریکٹر ٹرالی ہم نے تمھارے لیے رکھا ہے؟

امام صاحب نے بتایا کہ میت گھر پر پڑی تھی ، پھر میں ایک شخص کے ساتھ جا کر دوسرے شہر سے ٹرالر لے آیااور پھر بچی کو رات کے دس بجے قبرستان پہنچ کر دفنایا۔ انہوں نے بتایا کہ دوسرے دن کوئی بھی فاتحہ خوانی کے لیے بیٹی کی قبر پر نہیں گیا جس پر مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں نے کہا کہ ہم تمھاری اتنی خدمت کرتے ہیں اور کوئی بھی فاتحہ پڑھنے نہیں گیا۔

قاری صاحب نے بتایا کہ میں تین س چار ہزار طالب علموں کا استاد ہوں مگر ان میں سے کسی کے باپ نے مجھے سواری نہیں دی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US