مشہور قاری وحید ظفر قاسمی کے بارے میں کون نہیں جانتا ہے، ان کی نعت ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے، آج بھی زبان زد عام ہے۔
ہماری ویب ڈاٹ کام کی اس خبر میں آپ کو اسی حوالے سے بتائیں گے۔
پی ٹی وی کا وہ سنہری دور، جب نعتوں کو خاص اہمیت دی جاتی تھی، اور نہ صرف اہمیت دی جاتی تھی، مگر نعت کے تقدس اور احترام کو بھی برقرار رکھا جاتا تھا، آج وہ تقدس دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔
لیکن قاری ظفر قاسمی کی نعتیں، تلاوت کو آج بھی ناظرین پسند کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے چنے گئے الفاظ، بنا میوزک کے ہی آواز کا جادو سب کو بھا جاتا ہے، کیونکہ آج کل کی نعتوں میں میوزک پر ہی توجہ دی جاتی ہے۔
پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں قاری ظفر قاسمی اپنے بیٹے کے ہمراہ آئے تھے، ان کا دھیمہ لہجہ، خوش اخلاق شخصیت، پُر اثر الفاظ سب کو بھا رہے تھے، لیکن اس سب میں ان کے بیٹے حسان قاسمی نے بھی شرکت کی۔
عام طور پر قاری وحید ظفر قاسمی کو ہی پاکستانی جانتے ہیں، انہی کے کلام کو سنتے اور انہی کی تلاوت کو سنتے ہیں، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں، اس گھر کے چشم و چراغ بھی نعت خوانی کرتے ہیں۔
قاری وحید کے والد قاری ظفر قاسمی بھی قاری تھے اور اب ان کا پوتا یعنی قاری وحید ٖظفر کے بیٹے حسان قاسمی بھی نعت خوانی کرتے ہیں۔ پی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے حسان نے بتایا کہ مجھے فخر ہے کہ والد اس مقدس پیشے سے منسلک ہیں، بہت زیادہ خوشی ہوتے ہے کیونکہ یہ لیونگ لیجنڈ ہیں، ان کی کافی خدمات ہیں۔
بیٹے حسان بتاتے ہیں کہ والد کو نعت پڑھتے دیکھا ہے اور شروع سے ہی مجھے ابو کو دیکھ دیکھ کر شوق بڑھا اور پھر اسکول میں نعت خوانی کی۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ قاری ظفر قاسمی کے بڑے بھائی بھی نعت خوانی سے وابسطہ رہے، بیٹے حسان بھی نعت خواں ہیں، تلاوت بھی کرتے ہیں اور ان کی دونوں بیٹیاں بھی نعت خواں ہیں ساتھ ہی بیٹیاں تلاوت قرآن مجید بھی کرتی ہیں۔
قاری ظفر بتاتے ہیں کہ ہمیں اپنے گھروں میں بچوں کو دین سے لگاؤ پیدا کرانا چاہیے۔ قرآن کی تعلیم، اچھے سے اچھی بات سکھانی چاہیے، اچھا انسان بنانا چاہیے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات بتانی چاہیے، تاکہ ان کی زندگی بہتر ہو سکے۔