عید الفطر پر عیدی نہ ملے تو عید کی خوشیاں خوشیاں نہیں لگتی ہیں۔ بچے تو خاص طور پر عیدی انتظار میں صبح نماز پڑھنے جاتے ہیں کہ جب گھر واپس آئیں گے تو سب سے پہلے ابو عیدی دے دیں گے اور گھر کے بڑے لیکن اس عیدی کا رواج آیا کہاں سے؟ کیا پہلے کے دور میں بھی عیدی دی جاتی تھی؟ اس کی اصل تاریخ کیا ہے؟
عیدی کا رواج کہاں سے آیا؟
عیدی دینے کا آغاز مصر میں فاطمی ریاست کے دور سے ہوا جہاں اس وقت کا خلیفہ عید کے موقع پر سپاہیوں اور فوج کے جرنیلوں کو عطیات اور تحائف دیتے تھے۔ اس کے بعد اعیان سلطنت نے بھی خلیفہ کے اس ہمدردانہ عمل کو دہرانا شروع کیا۔ لوگوں میں اپنی دولت بانٹ کر خوشی محسوس کرنے والے مصر کے خلیفاؤں کی دولت میں قدرتی اتنا اضافہ ہوگیا کہ ایک وقت آیا جبکہ پورے مصر میں عوام الناس کے لیے عیدی کے ساتھ، عید کے جوڑے اور دیگر بیش قیمتی تحائف دیے جانے لگے۔ لیکن جب یہی فاطمی ریاست زوال کو پہنچی تو ان کی عیدی کی ڈالی گئی عادت کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھنے کی کوشش کی گئی اور آخر میں عیدی کا لفظ بچوں کے نام سے منسوب کردیا گیا اور پھر صرف عیدی بچوں کو دی جانے لگی۔
سعودی عرب میں بھی دیگر ممالک کی طرح عیدی کی روایت آج بھی موجودہے۔ عید کی تعطیلات سے پہلے بزرگ شہری نئے چھوٹے نوٹ لینے بینکوں کا رخ کرتے ہیں۔ کڑک نوٹ اس لیے لیتے ہیں تاکہ خاندان کے بچوں میں عیدی تقسیم کی جائے۔ یہی سلسلہ دنیا بھر میں قائم ہے۔