اس وقت دنیا بھر میں چیٹ جی پی ٹی کا چرچہ ہے۔ سیکنڈ میں مشکل سے مشکل معلومات فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی سے جب قرآن مجید کی آیت کے ترجمے اور ملتے جلتے الفاظ لکھنے کا کہا گیا تو ٹیکنالوجی کے جواب نے سوال کرنے والو کا منہ ہی بند کردیا۔
جی پی ٹی کہتا ہے کہ وہ قرآنی آیت کے ترجمے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ اس الہامی کتاب کو معجزے کا درجہ حاصل ہے جبکہ ٹیکنالوجی معلومات فراہم کرتی ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ جی پی ٹی کے جواب میں یہ بھی واضح تھا کہ قرآن میں موجود تحریر عربی زبان کا شاہکار ہے جو کسی انسان کے بس کی بات بھی نہیں۔ بے شک اس جواب سے آج بھی واضح ہوتا ہے کہ صدیوں پہلے خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے بھیجی گئی کتاب حرف بہ حرف اسی صورت میں موجود ہے۔
واضح رہے کہ سورۃ الاسراء میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتے ہیں کہ اگر تمام انسان اور جن مل کر قرآن کو نقل کرنے کی کوشش کریں تو بھی وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔ اللہ کی طرف سے پہلا چیلنج ایک زور دار بیان تھا۔ رب تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کی نقل صرف انسان ہی نہیں بنا سکتے، بلکہ اگر تمام انسان اور جن مل کر ایسا کرنے کی کوشش کریں تو پھر بھی ناکام رہیں گے جبکہ
سورہ ہود میں کافروں کو چیلنج کیا گیا تھا کہ وہ قرآنی سورتوں کی طرح دس سورتیں بنائیں، جن کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بنی ہوئی ہیں، اور اللہ کے علاوہ جس سے بھی ہو سکے مدد طلب کریں۔ یہ اللہ کا کافروں کے لیے دوسرا چیلنج تھا۔ اس نے انہیں قرآن سے ملتے جلتے صرف دس ابواب لکھنے کا چیلنج دیا۔ اس چیلنج کو پورا کرنے میں قریش اور ان کے طاقتور اتحادی بالکل ناکام ہو گئے۔

اس کے علاوہ سورۃ البقرہ میں کافروں کو چیلنج کیا گیا ہے کہ وہ صرف ایک سورہ بنا لیں جو قرآن کی طرح ہو۔ آخری چیلنج نے اسے اکیلے ایک باب تک محدود کردیا۔ قرآن مجید کا سب سے چھوٹا باب سورہ کوثر صرف تین آیات پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود کافروں کے لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ کوئی ایسا باب تخلیق کریں جو قرآن سے ہلکے سے مشابہت رکھتا ہو۔