گزشتہ روز پاکستان کے شہر بٹگرام میں چئیر لفٹ ٹوٹنے کا ایک لرزہ خیر واقعہ پیش آیا جس میں آٹھ افراد کی جان داؤ پر لگی ہوئی تھی۔ مگر پاک فوج کے جوانوں نے آخری حد تک چئیر لفٹ میں پھنسے لوگوں کی جان بچانے میں اپنی جان خطرے میں ڈالی اور انہیں زندہ سلامت اونچائی سے محفوظ طریقے سے زمین تک پہنچایا۔
چئیر لفٹ میں پھنسے جب تمام ہی لوگ صحیح سلامت نیچے آئے تو ہر جانب جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔
بٹگرام میں چیئرلفٹ میں پھنسے تمام آٹھوں افراد کو بچانے پر وہاں موجود لوگوں نے اللّٰہ اکبر کے نعرے لگانا شروع کردیئے۔
بچوں کو جب والدین کے حوالے کیا گیا تو وہاں موجود ان کے والدین اور دیگر رشتہ داروں کی آنکھیں بھر آئیں اور خوشی سے ان سب کے آنسو چھلک رہے تھے۔
چیئرلفٹ سے بچائے جانے والے ایک بچے نے بتایا کہ ہم سب بہت ڈر گئے تھے مگر سب کو اللّٰہ پر یقین تھا کہ ہم سب بچ جائیں گے، تاہم ہم میں سے کسی نے ہمت نہیں ہاری، اللّٰہ کی مہربانی سے ہم زندہ بچ گئے۔
چیئرلفٹ میں پھنسنے والے تمام بچے اور ان کیساتھ موجود ایک استاد اسکول جارہے تھے۔
اس اسکول کے ہیڈماسٹر علی اصغر خان جن کے اسکول کے 6 بچے چیئرلفٹ میں پھنس گئے تھے نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ہمارا اسکول پہاڑی علاقے میں واقع ہے اور یہاں آنے کیلئے کوئی محفوظ زمینی راستہ موجود نہیں اس لئے لوگ عام طور پر چیئرلفٹ کا ہی استعمال کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب پریشان تھے، والدین چیئرلفٹ کے مقام پر جمع تھے اور وہ اس سے زیادہ کربھی کیا سکتے تھے۔
اے ایف پی کے مطابق امدادی آپریشن کے دوران چیئرلفٹ میں موجود بچوں کے والدین اور وہاں جمع ہونے والے دیگر افراد بچوں کیلئے دعائیں کرتے رہے۔