پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع راولا کوٹ میں پیر کی شام کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والے مہلک تصادم اور متعدد ہلاکتوں کے دعوؤں کے بعد حالات تاحال کشیدہ ہیں۔ دوسری جانب منگل کی صبح راولا کوٹ میں پیش آئے واقعات کے خلاف میرپور میں ہونے والے احتجاج کے دوران ہونے والی فائرنگ سے بھی ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع میرپور میں کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان منگل کی صبح ہونے والی پرتشدد جھڑپ کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں۔
میرپور کے ایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی اُردو کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر تصدیق کی کہ منگل کے صبح عوامی ایکشن کمیٹی کے چند کارکنان راولاکوٹ میں پیر کی شام پیش آئے پرتشدد واقعات کے تناظر میں اظہار یکجہتی کے لیے میرپور کے تجارتی مرکز میں جمع ہوئے اور انھوں نے زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوشش کی۔
پولیس افسر نے الزام عائد کیا کیا کہ جب پولیس نے اِن افراد کو روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے فائرنگ کر دی اور اسی دوران مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک جبکہ دو زخمی ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
پولیس افسر کے دعوے کے برعکس کالعدم تنظیم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ اُن کی تنظیم کے کارکنان راولاکوٹ واقعہ میں کارکنوں کے ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے میرپور کے شہدا چوک اکھٹے ہوئے تھے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین پر فائرنگ کر دی۔ عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ اس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اس ضمن میں جب میرپور میں متعلقہ ہسپتال سے رابطہ کیا گیا تو وہاں ڈیوٹی پر موجودڈاکٹر نے ایک لاش اور دو زخمیوں کے ہسپتال لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
راولا کوٹ میں کشیدہ حالات اور ہلاکتوں کے دعوے
راولاکوٹ میں کئی ہفتوں سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے (تصویر: 24 جون، 2026)دوسری جانب پیر کی شام عوامی ایکشن کمیٹی اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان راولاکوٹ میں ہونے والے مہلک تصادم کے بعد حالات تاحال کشیدہ ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیر کو رات گئے جاری کیے بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ راولاکوٹ میں قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں اُن کے 14 کارکن مارے گئے، تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ مظاہرین کے اِن دعووں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پیر کی شام عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ اُن کے مطابق مظاہرین نے راولاکوٹ میں رینجرز اور پولیس کی دو گاڑیوں کو آگ بھی لگائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ کوششوں سے لانگ مارچ کے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا اور انھیں اُس جگہ پر واپس جانے پر مجبور کر دیا جہاں پر وہ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے دھرنا دیے ہوئے تھے۔
کشمیر پولیس کے ایک افسر نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رینجرز کے اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پیر کی شام جب کالعدم تنظیم کے کارکنان نے مظفر آباد جانے کے لیے راولاکوٹ کی جانب مارچ شروع کیا تو اندھیرا چھا جانے کے بعد پہاڑوں پر موجود ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کی جانب سے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں ان کا کہنا تھا کہ فائرنگ میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس افسر کے مطابق اس فائرنگ کے جواب میں سکیورٹی فورسز اور پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ پولیس افسر نے جوابی فائرنگ میں مظاہرین کی ہلاکت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ان کی تنظیم کے ایک درجن کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو درجن سے زیادہ زخمی ہیں۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن امتیاز اسلم نے پیر کی شب ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے ان کے 14 ساتھی مارے گئے جن میں کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر کے چھوٹے بھائی عثمان نذیر بھی شامل ہیں۔
بی بی سی حکام اور ایکشن کمیٹی کی جانب سے دیے گئے اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
عابد شاہین نے دعویٰ کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کی تنظیم کے کارکنوں پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ دریک کے مقام سے راولاکوٹ شہر کی جانب بڑھ رہے تھے۔ عابد شاہین کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کی لاشیں راولاکوٹ کے علاقے دریک کے قریب قائم کیے گئے میڈیکل کیمپ میں رکھوا دی گئی ہیں۔
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ میں شامل افراد کے پاس چھڑیوں کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں ہے لیکن ان کے اس دعوے کے برعکس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے پاس جدیداسلحہ موجود ہے جس سے وہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
لیاقت علی ملک نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے 14 ہلاکتوں کے بارے میں دعوے پر کہا ہے کہ ان دعووں کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ نہ کوئی لاش کسی سرکاری یا نجی ہسپتال لائی گئی ہے اور نہ ہی پولیس کے پاس کوئی لاش موجود ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں کسی ریکارڈ پر نہ آ جائیں اور یا انھیں پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال نہ لایا جائے وہ تصدیق نہیں کر سکتے۔
اُنھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ بھی ایکشن کمیٹی کے خلاف آپریشن کیا گیا تھا تو اُنھوں نے 400 کارکنان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا جبکہ ریکارڈ پر پانچ ہلاکتیں سامنے ائی تھیں۔
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اسمبلی میں کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج اور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔ اس سلسلے میں تنظیم کے ہزاروں کارکنان راولا کوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔
اس احتجاج کے دوران 27 جولائی سے قبل 40 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں 34 مظاہرین جبکہ چھ پولیس اور نیم فوجی اہلکار شامل تھے۔
انتخابات سے قبل احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات شروع کیے تھے جو بے نتیجہ رہے جس کے بعد مظاہرین نے مظفرآباد پہنچنے کی کال دی تھی۔
کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں پیر کو میرپور میں الیکشن ہوا ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مظفرآباد میں دو اگست کو جبکہ پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو پولنگ ہو گی۔
راولاکوٹ میں تصادم کیسے ہوا؟
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے لانگ مارچ کے لیے جمع ہونے والے کارکنوں میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل تھی (فائل فوٹو)راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں نے پیر کو سنگولہ کے مقام سے راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی تو سکیورٹی فورسز اور پولیس نے اِن مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی۔
انھوں نے کہا کہ دو ہزار کے قریب مظاہرین بس ٹرمینل کی جانب سے راولاکوٹ کی جانب آئے تو انھیں بھی شہر میں داخل ہونے سے روکا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے دعویٰ کیا کہ دریک کی جانب سے آنے والے مظاہرین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جوابی فائرنگ کی۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ کی بڑی واضح پالیسی ہے کہ ’مظاہرین کی جانب سے جہاں سے فائرنگ ہو گی تو اس کے جواب میں فائرنگ کی جائے گی۔ جبکہ باقی مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ دریک کی جانب سے جو مظاہرین راولاکوٹ کی جانب آ رہے تھے تو ان میں خواتین بھی شامل تھیں جو کہ سب سے پیچھے تھیں۔
ادھر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مجلسِ عاملہ کے رکن عابد شاہین نے الزام عائد کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ’پُرامن لانگ مارچ کے شرکا پر بلااشتعال فائرنگ کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کا لانگ مارچ ’اب کسی صورت نہیں رُکے گا اور وہ مظفر آباد پہنچ کر ہی رہیں گے۔‘
راولاکوٹ میں ہونے والے تصادم کے بارے میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل پونچھ ریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیر کی شام کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں نے زبردستی راولاکوٹ شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے اُنھیں منتشر ہونے کا کہا۔
بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان ’شرپسند عناصر‘ نے منتشر ہونے کے بجائے زبردستی شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانب سے حقائق کو مسخ کر کے من گھڑت ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مظاہرین کی طرف سے لانگ مارچ اور الیکشن کا بائیکاٹ کیوں؟

24 جولائی کی رات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 27 جولائی کو مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رُکن عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اُن کی تنظیم اور اُس کے حامیوں کو الیکشن میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا تھا کہ اس سال مئی میں جب پاکستانی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے تھے تو اس دوران اُن کی تنظیم انتخابات میں حصہ لینے پر متفق ہو گئی تھی، لیکن بعد میں اس طرح کے حالات پیدا کیے گئے کہ ان کی تنظیم انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکی۔
حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افراد کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جبکہ مذاکرات میں شامل حکومتی ٹیم کے ایک رُکن نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں اپنا نام مخفی رکھنے کی درخواست کی ہے۔
عابد شاہین نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت اُن کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی اور اس معاملے میں لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم کے نمائندہ وفد کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم کے ایک رکن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مذاکرات کے دوران ایکشن کمیٹی کے نمائندے اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ تنظیم کے وفد کو بتایا گیا کہ حکومت چھ ماہ تک اس کے طرزِ عمل کا جائزہ لے گی، جس کے بعد اسے کالعدم تنظیموں کی فہرست سے نکالنے کے بارے میں فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کے مطابق تنظیم کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ اس کے کارکنوں کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔ تاہم حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ ایسا کرنا حکومت کے لیے ممکن نہیں اور ان مقدمات کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔
مذاکرات میں شامل شخصیت کا کہنا تھا کہ تنظیم کے نمائندہ وفد کو یقین دہانی کرائی گئی کہ جن افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں، ان کی عدالتوں تک رسائی کے معاملے میں حکومت نرم رویہ اختیار کر سکتی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ تنظیم سے وابستہ جن افراد کو خدشۂ نقص امن کے تحت نظر بند کیا گیا ہے، ان کی مشروط رہائی اس صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پہلے اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرے۔
خیال رہے کہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔ ان میں سے شوکت نواز میر کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی حکومت نے کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 150 سے زائد رہنماؤں اور اہم کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں بھی ڈال دیے تھے۔
انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ چار جسے فورتھ شیڈول بھی کہا جاتا ہے، میں شامل افراد کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بلاک کر دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے زیراستعمال پاسپورٹ کو بھی سٹاپ لسٹ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص انتظامیہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنا علاقہ نہیں چھوڑ سکتا۔
12 نشستوں کا تنازع ہے کیا؟
فائل فوٹوپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 53 رکنی اسمبلی میں ان 12 نشستوں کی حیثیت طویل عرصے سے ایک متنازع مسئلہ رہی ہے۔
کشمیر اسمبلی میں 33 ارکان براہِ راست منتخب ہو کر آتے ہیں جبکہ خواتین و دیگر طبقات کے لیے آٹھ مخصوص نشستیں بھی ہیں۔
بے گھر کشمیریوں کے لیے مختص نشستوں کی بنیاد 1970 کی دہائی میں متعارف کروائی گئی تاکہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ، جو اس امید پر پاکستان میں آباد ہوئے تھے کہ خطے کے دیرینہ تنازع کے حل کے بعد وہ اپنے گھروں کو واپس جا سکیں گے، اس علاقے کے انتظام و انصرام کے حوالے سے اپنی آواز پہنچا سکیں۔
لیکن جن لوگوں کے لیے یہ نشستیں مخصوص ہیں، ان میں سے بہت سے افراد دراصل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نہیں رہتے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مقامی لوگ مؤثر طور پر ان نشستوں پر انتخاب لڑنے سے محروم ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ یہ مقامی نمائندگی کو کمزور کرتی ہیں اور قانون ساز اسمبلی کی تمام نشستیں اُن لوگوں کے لیے ہونی چاہییں جو واقعی اس خطے میں رہتے ہیں۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ریزرویشن ضروری ہے۔ حکام یہ عہد بھی کر چکے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات ہر صورت ہوں گے۔
میرپور میں الیکشن کے پہلے مرحلے کے دوران کیا ہوا؟

الیکشن کمیشن نے کہنا ہے کہ میرپور میں تشدد کے بعض واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ کا عمل پرامن رہا۔
اتوار اور پیر کی درمیانی شب نیوز کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل نے بتایا تھا ہر حلقے کا الگ الگ ٹرن آؤٹ رہا ہے تاہم میرپور ون میں ووٹرز ٹرن آؤٹ 27 فیصد رہا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی پی ٹی وی کے مطابق اب تک کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج میں مسلم لیگ ن کو برتری حاصل ہے۔
چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ غلام مصطفی مغل کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حالات کی وجہ سے یہ تاریخ کے سب سے سخت الیکشن تھے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ اِکا دُکا واقعات کے علاوہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی۔
ضلع کوٹلی کی چھ، ضلع بھمبر میں تین اور ضلع میرپور کی چار نشستوں کے مختلف پولنگ سٹیشنز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ ووٹروں کی تعداد ماضی کے مقابلے کم تھی۔ انتخابات کے دوران سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے 18 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ فوج کے اہلکار بھی علاقے میں موجود تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری احتجاج اور فون اور انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ماضی کی طرح انتخابی سرگرمیاں وسیع پیمانے پر نہیں ہو سکی ہیں۔
نامہ نگار شہزاد ملک نے میرپور کے مختلف پولنگ سٹیشنز کا دورہ کیا جہاں ان کے مطابق ’پولنگ کا عملہ ووٹرز کا انتظار کرتے دکھائی دیا۔ نوجوان ووٹرز بھی کم تھے۔‘
یاد رہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے بھی گذشتہ ماہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔