ایڈیشنل آئی جی سندھ اور کراچی پولیس چیف آزاد خان نے کراچی چیمبر میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی پاکستان کا معاشی دل ہے اور اس شہر کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے اثرات پورے ملک پر مرتب ہوتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی کو مسلسل دہشت گردی کے خطرات کا سامنا رہتا ہے، تاہم پولیس کی پوری کوشش ہے کہ شہر میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہ ہو اور کراچی پولیس ان خطرات کو روکنے میں کم و بیش کامیاب رہی ہے، جس کے نتیجے میں شہر میں مجموعی طور پر جرائم میں 15 فیصد کمی آئی ہے۔
کراچی پولیس چیف نے کہا کہ اصلاح کے لیے تنقید ضرور ہونی چاہیے لیکن ہمیں اپنے ملک اور شہر کا منفی تاثر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ یہی تاثر ملک اور بیرونِ ملک پھیل کر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ بھتہ خوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اس جرم پر کراچی پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی قائم ہے اور بھتہ خوروں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال پولیس نے کارروائیوں کے دوران 9 بھتہ خوروں کو ہلاک، 15 کو زخمی جبکہ 61 کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جبکہ غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف بھی سخت ایکشن جاری ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹریفک مینجمنٹ پولیس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ٹریفک مینجمنٹ کی نئی رجیم کے بعد حادثات میں 13 فیصد کمی آئی ہے۔ سیف سٹی پروجیکٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت اس کی رسائی کم ہے لیکن اس میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔ تجاوضات کے معاملے پر بات کرتے ہوئے پولیس چیف نے اعتراف کیا کہ کراچی میں انکروچمنٹ بڑھ رہی ہے، تاہم اس کی روک تھام کے لیے بلدیاتی اداروں اور پولیس کے درمیان رابطہ موجود ہے۔
کراچی پولیس چیف نے کہا کہ سندھ میں فرانزک لیب قائم کی جا رہی ہے اور ڈیجیٹل فرانزک کے شعبے میں بھی بہتری آئی ہے۔ سبزی منڈی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہاں ایک الگ تھانہ ہونا چاہیے جو جلد ہی قائم کر دیا جائے گا۔ بھکاری مافیا کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ پولیس کے پاس بھکاریوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ اگر بھکاریوں کو گرفتار کیا جائے تو انہیں رکھنے کے لیے جگہ موجود نہیں۔