انڈیا میں طلبہ کے احتجاج کے بعد پاکستان میں سات برس پرانی ویڈیو کی گونج: ’اپنے ملک میں جو چل رہا ہے، وہ بھی دیکھ لیا کریں‘

انڈیا میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی احتجاجی تحریک، وزیر تعلیم کے استعفے اور حکومتی اصلاحاتی اقدامات کے بعد پاکستان میں بھی بحث چھڑ گئی ہے کہ ملک میں ایسی بڑی عوامی نوجوان تحریک کیوں سامنے نہیں آتی۔

انڈیا میں نوجوانوں کے احتجاج اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد پاکستان میں سوشل میڈیا پر جہاں یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ پاکستانی طلبہ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال یا انڈیا کی طرح احتجاج کے ذریعے تبدیلی کیوں نہیں لے کر آتے، وہیں ایک پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

اس ویڈیو میں چند نوجوان بھرے مجمعے کے سامنے معروف ہندوستانی شاعر بِسمل عظیم آبادی کے اشعار ڈھول کی تھاپ پر انتہائی پُر جوش انداز میں پڑھ رہے ہیں:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

آج پھر مقتل میں قاتل کہہ رہا ہے بار بار

آئیں وہ شوق شہادت جن کے جن کے دل میں ہے

اس کے بعد وہ نوجوان نعرہ لگاتے ہیں کہ ’جب لال لال لہرائے گا، تب ہوش ٹھکانے آئے گا۔‘

یہ ویڈیو سنہ 2019 کی ہے۔ نوجوانوں نے معروف انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں لاہور میں منائی جانے والی ایک تقریب کے دوران یہ اشعار پڑھے تھے اور طلبہ یونین پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم، اب تقریباً سات سال بعد، انڈیا میں ہونے والے طلبہ مظاہروں کے تناظر میں یہی ویڈیو ایک بار پھر سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے۔

سابق بیوروکریٹ، کالم نگار اور یوٹیوبر اوریا مقبول جان نے سنہ 2019 کی ویڈیو شیئر کر کے پوچھا کہ ’خود کو کمیونسٹ کہنے والے یہ نوجوان آج کہاں گم ہیں۔‘

سات برس پرانی ویڈیو میں جو خاتون نعرے لگوا رہی ہیں وہ عروج اورنگزیب ہیں۔ اب انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کی ہے اور اعتراضات کا جواب دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا تھا اور ان کے ساتھیوں پر ’غداری کے مقدمات بھی قائم کیے گئے تھے‘ تو ’وہ تحریک آپ کو نظر نہیں آئی لیکن انڈیا کی تحریک میں آپ سرحد پھلانگنے کو تیار ہیں۔‘

ایکس پر ویڈیو میں عروج اورنگزیب نے کہا کہ ’لا پتہ افراد کے خلاف احتجاج کرنے والی ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو بدلے میں کیا ملا؟ عمر قید۔ جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی علی وزیر نے ریاست اور طالبان کی جانب سے کیے جانے والے تشدد پر بات کی تو انھیں کیا ملا؟ جیل۔‘

عروج اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی چھ جون سے احتجاج کیا جا رہا ہے جس میں ’انتخابات میں منصفانہ نمائندگی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور یہ احتجاج کرنے والی تنظیم پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔‘

عروج اورنگزیب کہتی ہیں کہ انڈیا میں جو ہو رہا ہے ’اس میں تو آپ کو بہت دلچسپی ہے لیکن اپنے ملک میں جو چل رہا ہے وہ بھی دیکھ لیا کریں کبھی۔‘

انھوں نے شکایت کی کہ ’انڈیا والے تو استعفیٰ تک لے لیتے ہیں اور پاکستان والے جب اس طرح کی بات کرتے ہیں تو پابندیاں لگتی ہیں، عمر قید ہوتی ہے، اٹھا لیا جاتا ہے۔

’تو بہت فرق ہے دونوں ملکوں کے نظاموں میں۔ ان کے ہاں 40 برسوں سے طلبہ یونینز پر پابندی نہیں ہے۔‘

امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے وابستہ اور جنوبی ایشیا امور کے ماہر مائیکل کوگلمین نے بھی 26 جولائی کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر سوال پوچھا تھا کہ ’پاکستان میں تبدیلی کے لیے نوجوانوں کی قیادت میں ایک بڑے پیمانے کی تحریک کیوں سامنے نہیں آ رہی، جیسا کہ ہم حال ہی میں سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں دیکھ چکے ہیں؟‘

کوگلمین کا سوال بھی انڈیا میں ’کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)‘ کے بینر تلے نوجوانوں کی احتجاجی تحریک کے پس منظر میں پوچھا گیا تھا۔

اس تحریک کی شروعات انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کے چند متنازع ریمارکس سے ہوئی تھی۔ ایک عدالتی سماعت کے دوران انھوں نے مبینہ طور پر صحافت اور سماجی سرگرمیوں کی جانب راغب ہونے والے بے روزگار نوجوانوں کا موازنہ ’کاکروچوں‘ سے کیا تھا۔

اگرچہ بعد میں انھوں نے وضاحت کی کہ ان کا بیان مجموعی طور پر نوجوانوں کے بارے میں نہیں بلکہ ’جعلی اور بوگس ڈگریوں‘ کے حامل افراد کے حوالے سے تھا۔ تاہم اس وقت تک یہ معاملہ سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن چکا تھا اور اسی ردعمل سے سی جے پی کے نام سے ایک طنزیہ احتجاجی تحریک نے جنم لیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کا نام انڈیا میں برسر اقتدار سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر ایک طرح کا طنز بھی ہے۔

ایک بینر جس پر لکھا ہے ’میں بھی کاکروچ ہوں‘
AFP via Getty Images

چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد نے سی جے پی کے گوگل فارم کے ذریعے اپنی رجسٹریشن کروائی اور اس تنظیم کا حصہ بن گئے۔ نوجوان طنزاً کاکروچ کا لقب اپنانے لگے، سوشل میڈیا پر ’میں بھی کاکروچ ہوں‘ کا ہیش ٹیگ مقبول ہوا اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے بھی اس تحریک کی حمایت کا اعلان کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر سی جے پی کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی۔

اسی تحریک کے تحت پھر انڈیا میں امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے مرکز میں واقع جنتر منتر پر ہزاروں افراد جمع ہوئے اور پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران مظاہرین اور پولیس کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس پر انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچے لیک کرنے میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں بنانے کا وعدہ کیا اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ بھی دیا۔

نریندر مودی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک ویڈیو بھی پوسٹ کی جس میں امتحانی اصلاحات کے لیے اعلیٰ اختیاراتی ٹاسک فورس بنانے کا اعلان کیا۔ 26 جولائی کو جاری کردہ اس ویڈیو پیغام میں انڈین وزیر اعظم نے کہا: ’ٹاسک فورس کی رپورٹ کی روشنی میں جلد از جلد ایسے اقدامات کیے جائیں گے جن سے ان امتحانات کی شفافیت اور قابلِ اعتماد ہونے کو یقینی بنایا جا سکے گا۔‘

پاکستان میں ’جین زی‘ تحریک کیوں نہ شروع ہوئی؟

انڈیا میں ہونے والے ان مظاہروں اور مظاہروں کے نتیجے یا دباؤ میں کیے گئے حکومتی اقدامات کو پاکستان میں بھی گہری دلچسپی سے دیکھا گیا۔

سوشل میڈیا پر طنزیہ تبصروں اور میمز کے ساتھ ساتھ یہ سنجیدہ بحث بھی سامنے آئی کہ نوجوانوں کی قیادت میں ایسی تحریکیں پاکستان کے قریبی ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور اب انڈیا میں حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، یہاں تک کہ حکومتیں تک بدل سکتی ہیں تو پاکستان میں اسی نوعیت کی کوئی وسیع عوامی تحریک کیوں جنم نہیں لے رہی۔

مائیکل کوگلمین نے بھی اپنے تبصرے میں پوچھا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش، نیپال اور انڈیا میں ’ان تحریکوں کو جن عوامل نے جنم دیا۔ جیسے کہ بد عنوانی، جبر، بے روزگاری اور بیگانگی، وہ تو پاکستان میں بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔‘

سوال اٹھانے کے ساتھ مائیکل کوگلمین نے خود بھی اس کے چند ممکنہ جوابات پیش کیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں نوجوانوں کی قیادت میں ایک بڑے عوامی احتجاجی اتحاد کے نہ ابھرنے کی وجوہات میں موجودہ جابرانہ سیاسی ماحول، مختلف سماجی و سیاسی تحریکوں کے درمیان عدم اتحاد، معاشرے میں پائی جانے والی تقسیم اور 1980 کی دہائی سے طلبہ یونینز پر عائد پابندی شامل ہیں۔

کوگلمین کے سوال پر مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے پاکستان میں نوجوانوں کی کسی بڑی تحریک کی عدم موجودگی کو ریاستی اور سیاسی ماحول سے جوڑا، جبکہ کچھ نے اسے سماجی رویوں، قومی شناخت یا موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا۔

عمر قریشی نامی صارف نے اس سوال کی بنیاد ہی سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کو کسی نئی نوجوان تحریک کی ضرورت نہیں۔ ان کے بقول ملک درست سمت میں گامزن ہے، قرضوں کی ادائیگی اور معاشی خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے، اور اس مرحلے پر مشکل فیصلوں کی ضرورت ہے۔

انڈین نیوز چینل این ڈی ٹی وی کے ایڈیٹر اور اینکر ادتیہ راج کول نے رائے دی کہ پاکستان میں نوجوان اور سول سوسائٹی متحرک ضرور ہیں، لیکن ان کے مطابق ایک حد عبور کرنے کی صورت میں انھیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

محمد علی نامی ایک صارف نے دلیل دی کہ پاکستانی معاشرے میں اجتماعی قومی شناخت نسبتاً کمزور ہے۔ ان کے مطابق بیشتر پاکستانی اپنی ترقی کا راستہ اجتماعی جدوجہد کے بجائے انفرادی کوششوں میں دیکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وسیع عوامی تحریک کے لیے درکار اجتماعی احساس پیدا نہیں ہو پاتا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف سرور باری نے اس خیال سے اختلاف کیا کہ پاکستانی نوجوان متحرک نہیں ہیں۔ ان کے مطابق نو مئی (جب سنہ 2023 میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا گیا)، آٹھ فروری (سنہ 2024 میں عام انتخابات) اور 26 نومبر (سنہ 2024 میں تحریک انصاف کا احتجاج) جیسے مواقع پر نوجوان بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے اور ’انھوں نے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ریاستی دباؤ کا سامنا کیا۔‘

شاہد محمود نامی صارف نے اس سوال کا جواب پاکستانی سماج اور سیاست کی ساخت میں تلاش کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق اس کی ممکنہ وجوہات میں ’معاشرتی حرکیات، سیاسی نظام کی نوعیت اور قابلِ اعتماد قیادت کا فقدان‘ شامل ہو سکتا ہے۔ شاہد محمود کے مطابق شاید پاکستان کے نوجوانوں کی زیادہ تعداد اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ ملک کے حالات میں بہتری لانا ممکن ہی نہیں رہا۔

جبکہ صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ’چونکہ پاکستان میں سنہ 2002 کے بعد سے ہر ڈھائی سال بعد وزیرِ اعظم بدل رہے ہیں تو احتجاج کے ذریعے حکومت بدلنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔‘

اس موضوع پر اظہار خیال کرنے والوں نے طنز و مزاح کا بھی سہارا لیا۔

سوشل میڈیا پر طنزیہ اور مزاحیہ ویڈیوز پیش کرنے والے کانٹینٹ کری ایٹر عون علی کھوسہ نے بھی اپنے انداز میں اس بحث میں حصہ لیا۔

سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں وہ کہتے ہیں: ’میں ابھی انڈیا کی ریلز دیکھ رہا تھا اور حیران ہو رہا تھا کہ وہاں طلبہ کس طرح اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوئے۔‘

اس کے بعد وہ کہتے ہیں ’میرا خیال ہے وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بھی۔۔۔‘

دیکھنے والے کو ابتدا میں یہ محسوس ہوتا ہے کہ عون علی کھوسہ کہیں گے ’پاکستان میں بھی اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔‘

تاہم، ان کی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ادھورے جملے کے دوران ہی گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دیتی ہے، اور پھر عون علی کھوسہ جملہ یوں مکمل کرتے ہیں: ’میرا خیال ہے وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں بھی ۔۔۔ یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہاں سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ آرام سے گھر میں بیٹھیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US