پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سائفر کیس کی کارروائی نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے جمعرات کو ایک حکم نامہ کے ذریعے یہ پابندی لگائی۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر سائفر کیس کی کوئی کارروائی نشر نہیں ہو گی۔‘’پیمرا اور پی ٹی اے اس حوالے سے ہدایات پر عمل درآمد یقینی بنائیں، اگر کسی نے اس کی خلاف ورزی کی تو پھر اس کے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔‘حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’پیمرا اور پی ٹی اے کو عدالتی حکم کی کاپی فراہم کی جائے تاکہ آئندہ اس حوالے سے کوئی خلاف ورزی نہ ہو۔‘خصوصی عدالت کی جانب سے سائفر کیس کا ٹرائل ان کیمرہ کرنے کی پراسیکیوشن کی درخواست منظور کرلی گئی۔عدالتی حکم نامے کے مطابق ’سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی فیملی کیس کی سماعت کے دوران مشروط طور پر موجود ہو گی۔‘’شرط یہ ہو گی کہ عدالتی کارروائی کو فیملی کے ارکان کسی جگہ بیان نہیں کریں گے، ٹرائل کی کارروائی کے دوران عام افراد موجود نہیں ہوں گے۔‘