وہ کپڑے دھو رہی تھیں اور پھر۔۔ حمیرا اصغر آخری بار گھر سے باہر کب نکلیں اور موت کیسے ہوئی؟ تفتیشی زرائع کے انکشافات

image

اداکارہ حمیرا اصغر کیس کے تفتیشی زرائع کا کہنا ہے کہ حمیرا آخری بار اٹھائیس ستمبر کو گھر سے باہر نکلی تھی، ایک بجے دوپہر کلفٹن گئی واپس دو بجے گھر آئی پھر گھر سے باہر نہیں نکلیں۔

حمرا کے موبائل فون کے سی ڈی ار سے اہم معلومات ملی ہیں کہ حمیرا شدید مالی بحران اور کام نہ ملنے سے پریشان تھیں۔ کئی لوگوں کو میسج کیے کہا مجھے کام دو یا دلواو تفتیشی زرائع کا کہنا تھا کہ جس وقت حمیرا گری ہیں اس وقت وہ کپڑے دھو رہی تھیں اور باتھ روم سے کسی کام سے باہر آئیں اور کسی چیز سے ٹکرا گر پڑیں۔

دوسری طرف پولیس نے ماڈل واداکارہ حمیرا اصغر کی پراسرار ہلاکت کے کیس کی تحقیقات میں سی ٹی ڈی کی مدد بھی لے لی ہے۔ ڈسٹرکٹ ساوتھ انویسٹی گیشن ایس پی عمران جگیرانی نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ساوتھ انویسٹی گیشن پولیس نے متوفیہ معروف ادکارہ حمیرا اصغر کے گھرسے تحویل میں لیئے جانے والے موبائل فونزاورٹیبلٹ کی فرانزک کے لئے کاونٹر ٹریزم ڈپارٹمنٹ کے سپرد کردیئے ہیں جوکہ موبائل فونز اور ٹیبلٹ کا فرانزک کر ے گی، انھوں نے بتایا کہ کئی افراد کے بیان قلمبند کر چکے ہیں جن میں پڑوسی ،چوکیدار ،فلیٹ مالک ،اسٹیٹ ایجنٹ ،لاک بریکرشامل ہیں ،کال ڈیٹا کو اینالائز کر رہے ہیں ،مییڈیکل ایگزامن کی رپورٹ کا انتظار ہے جس کا ریمائنڈر بھی بھیج چکے ہیں۔

اس حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ موبائل فونز کا تجزیہ کرنے پر معلوم ہوا کہ اداکارہ کے فون میں 2,215 سے زائد نمبرز محفوظ تھے، جن میں پروڈیوسرز، ڈائریکٹرز اور شوبز انڈسٹری کی شخصیات کے نام شامل ہیں۔آخری رابطے، مشکوک خاموشی کے حوالے سے تفتیشی زرائع کا کہنا ہے کہ سی ڈی آر (کال ڈیٹیل ریکارڈ) رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر 2024 کو شام پانچ بجے تک اداکارہ نے 14 افراد سے رابطے کی کوشش کی، جس کے بعد ان کے فونز مکمل خاموش ہو گئے۔ ان افراد میں ان کے قریبی عزیز بھی شامل ہیں۔پولیس کو یہ بھی علم ہوا ہے کہ اداکارہ 75 افراد سے مسلسل رابطے میں تھیں، پولیس نے ان تمام افراد کے بیانات ریکارڈ کرنے کا عندیہ دیا ہے،پولیس نے جائے وقوع سے ایک خراب ٹیبلٹ، ڈائری، گھریلو اشیاء اور مختلف دستاویزات بھی تحویل میں لی ہیں۔ ٹیبلٹ کو درست کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکے،جو ممکنہ طور پر کیس کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے ۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US