چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس روزی خان بڑیچ نے پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کے بہیمانہ قتل کا نوٹس لیتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور آئی جی پولیس بلوچستان کو 22 جولائی کو طلب کر لیا۔
واقعے کی لرزہ خیز ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں مسلح افراد ایک مرد اور خاتون کو نامعلوم مقام پر اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد حکومت بلوچستان نے فوری ایکشن لیا اور مقدمہ درج کر کے آپریشن شروع کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ اب تک 11 ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں اور آپریشن جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، ریاست مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور قانون اپنا راستہ خود اختیار کرے گا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق واقعہ عیدالاضحیٰ کے قریب پیش آیا ہے۔ تاحال مقتولین کی لاشیں نہیں مل سکیں۔ ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق علاقے میں سی ٹی ڈی اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہے۔