جمہوریہ انڈونیشیا کے پاکستان میں سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو نے اپنے وفد کے ہمراہ راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آر سی سی آئی) کا دورہ کیا، جہاں پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔
سفیر کے ہمراہ انگان مالین (ہیڈ آف اکنامک افیئرز)، قرۃ العین (اسٹاف، اکنامک سیکشن)، محمد خیرال اجیال (اسٹاف، سوشیو کلچر سیکشن) اور مسٹر ڈکی رخمت پاؤجی (پرسنل سیکرٹری ٹو ایمبیسیڈر) بھی موجود تھے۔ آر سی سی آئی کے صدر عثمان شوکت، سینئر نائب صدر فہد برلاس، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین اور کاروباری برادری نے معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔
استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے صدر راولپنڈی چیمبر عثمان شوکت نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی برآمدات بڑھانے، علاقائی تجارت کے فروغ، بزنس ٹو بزنس روابط کو مستحکم بنانے، تجارتی وفود کے تبادلوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زراعت، ویلیو ایڈڈ مصنوعات، مینوفیکچرنگ اور ابھرتے ہوئے صنعتی شعبوں میں مشترکہ تعاون دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔
اس موقع پر انڈونیشیا کے سفیر چندرا ڈبلیو سوکوتجو نے کہا کہ انڈونیشیا پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے۔ انہوں نے سیاحت، حلال فوڈ، قابلِ تجدید توانائی، صحت، زراعت، فارماسیوٹیکل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو باہمی تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مضبوط سفارتی تعلقات کو مؤثر تجارتی اور سرمایہ کاری شراکت داری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی کاروباری افراد کے لیے انڈونیشیا کا ویزہ حاصل کرنے کا عمل مزید آسان بنایا جا رہا ہے، جبکہ ویزہ فیس میں کمی کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ تاجروں کے درمیان کاروباری سرگرمیوں اور باہمی روابط کو مزید فروغ دیا جاسکے۔
سفیر نے پاکستانی تاجروں اور صنعتکاروں کو 41ویں ٹریڈ ایکسپو انڈونیشیا میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش 14 سے 18 اکتوبر 2026 تک منعقد ہوگی، جو پاکستانی برآمد کنندگان، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے انڈونیشیا سمیت بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی، نئے کاروباری شراکت دار تلاش کرنے اور اپنی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا بہترین موقع ثابت ہوگی۔