پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) نے مالی سال 25-2024 میں مالی نقصانات میں 20 ارب روپے کی نمایاں کمی کر کے گزشتہ پانچ سالوں کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ کمی کمپنی کی نئی اصلاحاتی پالیسیوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملیوں کا نتیجہ ہے جن کی قیادت چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز ہمایوں اللہ خان کر رہے ہیں۔
پیسکو کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی نقصانات جو 21-2020 میں 42 ارب روپے تھے، وہ مسلسل بڑھتے ہوئے 24-2023 میں 142 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے۔ تاہم، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نئی حکمت عملی کے تحت 25-2024 میں یہ نقصانات کم ہو کر 122 ارب روپے رہ گئے، جس سے 20 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی۔
چیئرمین بورڈ ہمایوں اللہ خان کا کہنا ہے کہ کمپنی نے صرف 43 فیصد افرادی وسائل کے ساتھ 45 لاکھ صارفین کو بہتر خدمات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات میں بھی کمی ہوئی ہے، جو 38 فیصد سے کم ہو کر 36.81 فیصد پر آ گئے ہیں، جبکہ مجموعی اے ٹی اینڈ سی نقصانات 42.81 فیصد سے گھٹ کر 41.62 فیصد ہو گئے ہیں۔
نجی صارفین سے بلوں کی وصولی کی شرح بھی بہتر ہو کر 90.6 فیصد سے بڑھ کر 91.69 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ صنعتی و تجارتی شعبے میں بہتری لانے کے لیے پیسکو نے بلوں کی عدم ادائیگی پر منقطع صنعتوں کے لیے 24 قسطوں پر مشتمل ادائیگی اسکیم متعارف کرائی، جس سے کئی صنعتیں دوبارہ بحال ہوئیں۔
بجلی چوری کے خلاف بھی پیسکو نے بھرپور کارروائی کی، جس کے دوران 40 ہزار 123 غیرقانونی کنکشنز ہٹائے گئے، 1,872 افراد کو گرفتار کیا گیا، اور 1.3 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ، 62 ہزار 294 تین فیز کنکشنز کو جدید اے ایم آر میٹرز سے تبدیل کیا گیا، جو کمپنی کی کل وصولی کا 50 فیصد حصہ ہیں۔