انڈیا میں ’آن لائن گیمنگ‘ پر پابندی سے متعلق نیا قانون: ’کئی لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اور کچھ نے خودکشی بھی کی‘

چند روز قبل انڈیا میں اس آن لائن گیمنگ سے متعلق مسئلے پر قابو پانے کے لیے ان پر مکمل پابندی کا قانون پاس کیا گیا۔ حکومت کے مطابق یہ گیمز بھی منشیات کی طرح خطرناک ثابت ہو رہی ہے کہ جس کے عادی ہو کر لوگ اپنی عُمر بھی کی کمائی سے محروم ہو رہے ہیں۔
Getty Images
Getty Images
آن لائن گیمنگ اور اس کی عادت (فائل فوٹو)

آج بھی کارتک سری نواس (فرضی نام) آن لائن جوئے کا ذکر سُن کر کانپ سے جاتے ہیں۔

کم وقت میں زیادہ پیسہ کمانے کی لالچ جو بعد میں ایک عادت میں بدل گئی۔ اس لت یا عادت نے 26 سالہ کارتک کی کمائی، گھر اور یہاں تک کہ ان کے مُستقبل اور انھیں تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا تھا۔

سنہ 2019 سے سنہ 2024 کے درمیان کارتک کو 15 لاکھ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ اس میں ان کی تین سال کی کمائی اُس سے ہونے والی بچت اور دوستوں اور خاندان والوں سے لیا گیا قرض بھی شامل تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے سب کچھ آزمایا لیا تھا دیگر آن لائن ایپس، مقامی سطح پر سٹے بازی کرنے والے، یہاں تک کہ بین الاقوامی سطح پر بھی مدد حاصل کرنے اور جیتنے کی کوشش کی مگر پریشانی کے علاوہ کُچھ حاصل نہیں ہوا۔‘

سنہ 2024 تک کارتک پوری طرح سے قرض میں ڈوب چکے تھے۔ کارتک کی کہانی انڈیا آن لائن پیسے کمانے سے متعلق گیمنگ کی پھلتی پھولتی ہوئی صنعت کے تاریک پہلو کو سامنے لاتی ہے۔

یہاں لوگ حقیقت کے برعکس آن لائن پیسے کمانے کے لیے مختلف گیمز کا سہارا لیتے ہیں۔

تاہم چند روز قبل انڈیا میں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ان گیمز پر مکمل پابندی کا قانون پاس کیا ہے۔

انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ یہ گیمز بھی منشیات کی طرح خطرناک ثابت ہو رہی ہے کہ جس کے عادی ہو کر لوگ اپنی عُمر بھی کی کمائی سے محروم ہو رہے ہیں۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم لوگوں کو جوئے سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے

Getty Images
Getty Images
انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ لوگ ’بیٹنگ ایپس‘ کے عادی ہو کر اپنی جمع پونجی سے محروم ہو رہے تھے۔

انڈیا میں پاس ہونے والے اس نئے قانون کے تحت ایسی ایپس کی تشہیر کرنا یا انھیں عوام کے لیے دستیاب کرنا اب جرم تصور کیا جائے گا۔

اس شق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے شخص کو تین سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

اگر کوئی ان گیمنگ ایپس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے تو اسے دو سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

تاہم اس قانون میں ان گیمز کو کھیلنے والے یعنی ان میں پیسہ لگانے والے کو مجرم نہیں بلکہ حادثاتی طور پر اس کا شکار بننے والا تصور کیا گیا ہے۔

انڈین حکومت کے مطابق یہ قدم لوگوں کو ’جوئے‘ سے بچانے اور اس کے اثرات سے دور رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک عدالت نے صارفین کو آن لائن ایپس پر جوا کھیلنے کی ترغیب دینے کے الزام میں ایک پاکستانی یوٹیوبر کو حراست میں لیا تھا۔

اس حوالے سے پاکستان کی نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو آن لائن ایپس پر جوا کھیلنے کی ترغیب دینے اور ان ایپس کی تشہیر کرنے میں ملوث دیگر یوٹیوبرز کو بھی نوٹس جاری کیے تھے جس کے بعد اُن کا نام پی این آئی ایل لسٹ میں ڈالا گیا۔

ڈھائی لاکھ لوگوں کا روزگار خطرے میں

Getty Images
Getty Images
بیٹنگ ایپس میں سے ایک ڈریم 11 تھی، جو انڈین کرکٹ ٹیم کی سپانسر تھی

انڈیا میں مرکزی آئی ٹی وزیر اشونی وشنو نے پارلیمنٹ میں دعویٰ کیا کہ 45 کروڑ انڈین آن لائن منی گیمز سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق لوگوں کا کروڑوں روپے سے بھی زیادہ کا نقصان ہوا ہے، بہت سے لوگ اس وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور کچھ نے تو خودکشی بھی کر لی ہے۔ تاہم ان اعداد و شمار کے ذرائع واضح نہیں ہیں۔

دوسری جانب اس صنعت سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ جلد بازی میں کیا گیا ہے جس سے تیزی سے ترقی کرنے والے اس شعبے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ نقصان انھیں لوگوں کا ہوگا کہ جنھیں حکومت بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پابندی سے پہلے انڈیا میں تقریباً 400 ’رئیل منی گیمز‘ (آر ایم جی) سٹارٹ اپ کام کر رہے تھے۔ انھوں نے سالانہ تقریباً دو ارب 30 کروڑ ڈالر ٹیکس کی مد میں جمع کروائے اور اڑھائی لاکھ سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے۔ ان میں سے ایک انڈین آن لائن پلیٹ فارم ’ڈریم 11‘ بھی ہے کہ جو انڈین کرکٹ ٹیم کا سپانسر یعنی انھیں مالی معاونت بھی فراہم کرتا رہا تھا۔

یہ پہلا ایسا قانون ہے کہ جس نے آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارمز یعنی ان لائن جوا کھیلنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم اس سے پہلے اوڈیشہ، آسام، آندھرا پردیش اور تلنگانہ جیسی انڈین ریاستوں نے اپنی سطح پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

سنہ 2023 میں انڈیا کی مرکزی حکومت نے آن لائن گیمنگ پر 28 فیصد ٹیکس لگانے کی منظوری بھی دی تھی۔

Getty Images
Getty Images
انڈسٹری میں ریگولیشن کی ضرورت تھی لیکن بغیر بحث اور تیاری کے قانون کا نفاذ کیا گیا۔

تاہم انڈیا میں ان پابندیوں کے باوجود یہ صنعت تیزی سے ترقی کر رہی تھی۔ بیرونی سرمایہ کاری اور اشتہارات کی وجہ سے یہ صنعت خوب پروان چڑھی۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل جئے سیٹا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ پابندی ان سرمایہ کاروں کے لیے ایک ’بڑا دھچکا‘ ہے جنھوں نے ان سٹارٹ اپس میں لاکھوں ڈالر لگائے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ انڈسٹری میں ریگولیشن کی ضرورت تھی لیکن بغیر بحث اور تیاری کے قانون کا نفاذ کیا گیا۔

اس فیصلے کی وجہ سے جن کمپنیوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے وہ ڈریم 11 (آٹھ ارب بلین ڈالر کی کمپنی) اور مائی 11 سرکل (دو ارب پچاس کروڑ ڈالر کی کمپنی)۔

ڈریم 11 آن لائن گیمنگ پلیٹ فار کبھی انڈین کرکٹ ٹیم کا مرکزی سپانسر تھا اور مائی 11 سرکل انڈین پریمیئر لیگ سے وابستہ تھا یعنی اُن کا سپانسر تھا۔

اب ان دونوں آن لائن گیمنگ ایپس نے انڈیا میں اپنا کام بند کر دیا ہے۔

’پابندی بغیر کُچھ سوچے سمجھے لگا دی گئی ہے‘

Getty Images
Getty Images
بیٹنگ ایپس انڈسٹری سے منسلک لوگوں کا کہنا ہے کہ ’پابندی لگانے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر نہیں بلکہ جلدبازی میں کیا گیا ہے۔‘

آن لائن انڈسٹری کا کہنا ہے کہ نیا قانون ’گیم آف سکل‘ اور ’گیم آف لک‘ میں فرق نہیں کرتا اور دونوں پر ہی بغیر سوچے سمجھے پابندی لگا دی گئی ہے۔ (یعنی ایسی آن لائن گیمز کے جن میں جوا کھیلا جاتا ہے اور دوسری جانب وہ آن لائن گیمز کہ جن میں آپ اپنی مہارت دکھا کر جیتے ہیں اور آپ کو انعام کے طور پر پیسے ملتے ہیں)۔

انڈیا میں کئی ہائی کورٹس پہلے ہی فیصلہ دے چکی ہیں کہ آن لائن منی گیمز مہارت کے کھیل ہیں اور جوئے کے زمرے میں نہیں آتے۔

کرناٹک اور تمل ناڈو کی عدالتوں نے انھیں بنیادوں پر ریاستی سطح پر پابندی کو ختم کر دیا تھا۔

سنہ 2022 میں سپریم کورٹ نے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا، جس میں خیالی یا غیر حقیقی کھیلوں کو ’گیم آف سکل‘ قرار دیا گیا۔

ڈریم 11 میں پالیسی کمیونیکیشنز میں کام کرنے والی سمرتی سنگھ چندرا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم لِنکڈ ان پر لکھا کہ پابندی ’بغیر تیاری کے، بغیر سوچے سمجھے اور معاشی حقائق کی پرواہ کیے بغیر‘ لگائی گئی۔

وکیل جئے سیٹا کا کہنا ہے کہ کمپنیوں نے ان عدالتی فیصلوں کی بنیاد پر اپنا کاروبار بنایا تھا۔

جوئے کی غیر ملکی ویب سائٹس کے چنگل میں پھنس کا امکان

Getty Images
Getty Images
بیٹنگ ایپس پر پابندی کے بعد انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے لوگ غیر ملکی جوئے کی ویب سائٹس کے چنگل میں پھنس سکتے ہیں

انڈین گیمنگ فیڈریشنز کا کہنا ہے کہ انڈیا ان پلیٹ فارمز کی بندش سے لاکھوں کھلاڑی غیر قانونی نیٹ ورکس، غیر ملکی جوئے کی ویب سائٹس اور عارضی آپریٹرز کی طرف چلے جائیں گے۔ لیکن وہاں نہ تو سکیورٹی ہوگی اور نہ ہی صارفین کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔

بہت سے انڈین شہروں میں پہلے سے ہی مقامی سٹے بازوں کے ذریعے جوا کھیلا جاتا ہے جو اکثر آن لائن پلیٹ فارمز سے زیادہ خطرناک کھیل ہے۔

جوا یا بیٹنگ اکثر واٹس ایپ یا ٹیلی گرام گروپس کے ذریعے ہی کھیلا جاتا ہے، جہاں سینکڑوں لوگوں کے ساتھ لنکس کا اشتراک کیا جاتا ہے۔ غیر ملکی گیمنگ ایپس اب بھی وی پی این کے ذریعے آسانی سے قابل رسائی ہیں۔

Getty Images
Getty Images

انڈین حکومت کا کہنا ہے کہ دراصل پیسے والی گیمز بھی ’مبہم الگورتھم‘ پر چلتی ہیں جس میں کھلاڑیوں کے جیتنے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور بہت سے ماہرین اس امر سے متّفق ہیں۔

ویڈیو گیمنگ کمپنی ’انکور گیمز‘ کے شریک بانی وشال گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آن لائن رمی یعنی تاش کا ایک کھیل جس میں کھلاڑی اکثر انجانے میں بوٹس یعنی کمپیوٹر یا ایک الیکٹرانک سسٹم کے خلاف کھیل رہے ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ ان بوٹس کے الگورتھم کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ کمپنی کو ہمیشہ فائدہ ہی ہوتا ہے۔‘

گوندل کہتے ہیں کہ ’یہ کھیل دراصل جوئے کی ہی ایک قسم ہے۔ انھیں سکل گیمز کہنا درست نہیں ہے۔‘

لیکن کارتک سرینواس جیسے لوگوں کے لیے یہ فیصلہ اچانک اور چونکا دینے والا ہے۔ وہ اب کوئی شرط نہیں لگاتے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’جوئے کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پھیلانا اس پر پابندی لگانے سے کہیں زیادہ موثر ہوتا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’کم از کم ان ایپس سے متعلق کسی کو ذمہ دار تو ٹھرایا جا سکتا تھا۔۔۔ پابندی کی صورت میں جو لوگ ان کے عادی ہو چُکے ہیں ان کی صورتحال بد سے بدتر ہو سکتی ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US