گرفتار افغان دہشت گرد کا خودکش حملے کے لیے ریکی کا اعتراف

image

تلہ گنگ سے گرفتار افغان شہری قاسم عرف حسن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ افغانستان کے گردیز ولایت کا رہنے والا ہے اور 10 سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ لکی مروت، پاکستان میں آیا۔ گرفتار دہشت گرد نے پولیس کو بتایا کہ اس نے 2025 میں سرہ درگہ میں طالبان کمانڈر ارمانی سے ملاقات کی اور جہاد میں شامل ہو گیا۔

قاسم عرف حسن کے مطابق اسے اور اس کے ساتھی فاروق کو تاجوڑی میں فوجی قلعہ پر فدائی حملہ کے لیے ریکی کرائی گئی تھی تاہم مناسب موقع نہ ملنے کی وجہ سے حملہ ممکن نہ ہو سکا۔

ملزم نے مزید اعتراف کیا کہ طالبان کمانڈر ارمانی نے اسے نئے افراد بھرتی کرنے اور تنظیم میں شامل کرنے کے لیے بھیجا اور اس نے پانچ افراد کمانڈر کے حوالے کیے جن کے عوض اسے فی بندہ 10 ہزار روپے دیے گئے۔ بعد ازاں وہ ستمبر میں پنجاب گیا تاکہ مزید لڑکوں کو تنظیم میں شامل کیا جا سکے لیکن کچھ دن بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

گرفتار دہشت گرد کی اعترافی ویڈیو میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ کس طرح افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ پاکستانی حکام پہلے بھی عالمی سطح پر افغان سرزمین کے دہشت گردی میں استعمال کے ناقابل تردید شواہد پیش کر چکے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US