شیر کی گھاس کھانے کی ویڈیو وائرل، گوشت خور جانور گھاس کب کھانے لگتے ہیں؟

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں جنگل کے بادشاہ کہلانے والے شیر کے ساتھ ایک ببر شیر کو بھی گھاس کھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم یہ پہلی بار نہیں کہ اس نوعیت کے واقعات سامنے آئے ہوں۔ ماہرین کے مطابق شیر اور بلی جیسےگوشت خور جانوروں کا گھاس کھانا ایک فطری عمل ہے۔

ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’بھوکا شیر بھی گھاس نہیں کھاتا۔‘

تاہم حال ہی میں جوناگڑھ کے چڑیا گھر سکر باغ میں شیر کی گھاس کھاتے ہوئے وائرل ویڈیو نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں جنگل کے بادشاہ کہلانے والے شیر کے ساتھ ایک ببر شیر کو بھی گھاس کھاتے ہوئے دیکھا گیا۔

یہ پہلی بار نہیں کہ اس نوعیت کے واقعات سامنے آئے ہوں۔ انڈیا کے خبر رساں ادارے انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 میں بھی ایشیائی شیر کے گھاس کھانے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

حالیہ وڈیو سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر بہت سے لوگ اس بارے میں شکوک کا اظہار کر رہے ہیں کہ کیا شیر واقعی گھاس کھاتے ہیں یا یہ محض اتفاق ہے اور یہ کہ کیا یہ خبر سچائی پر مبنی نہیں؟

تاہم حقیقت کچھ اور ہے۔ شیر اور ببر شیر سمیت بلی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے بیشتر جانور کبھی کبھار گھاس کھاتے ہیں۔

عام طور پر گوشت خور سمجھے جانے والے شیر اور ببر شیر گھاس کیوں کھاتے ہیں؟ اس کے پیچھے سائنسی وجوہات کیا ہیں؟

عموماً جب کوئی شخص چڑیا گھر یا جنگل میں شیر کو گھاس کھاتے دیکھتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ شاید اسے مناسب خوراک نہیں مل رہی اور اسی وجہ سے وہ گھاس کھانے پر مجبور ہے۔

تاہم محکمہ جنگلات کے ایک اہلکار کے مطابق یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے۔ جانوروں کا گھاس کھانا ایک فطری عمل ہے۔

جوناگڑھ کے سکر باغ چڑیا گھر کے ڈائریکٹر راجدیپ سنگھ جھالا کا کہنا ہے کہ شیر، ببر شیر، تیندوے اور بلیاں ’اوبلیگیٹ کارنی وور‘ یعنی مکمل گوشت خور جانور ہیں اور ان کا پورا حیاتیاتی ڈھانچہ گوشت خوری کے لیے بنا ہے۔

راجدیپ جھالا کہتے ہیں کہ ’یہ سبزی خور نہیں ہیں، لیکن کبھی کبھار گھاس کھا لیتے ہیں۔ جس طرح انسان ہاضمہ بہتر بنانے کے لیے اسپغول یا چیا سیڈز جیسے فائبر استعمال کرتے ہیں، اسی طرح گھاس شیر اور ببر شیر کے لیے فائبر کا کام کرتی ہے۔ ‘

ان کے مطابق ’گھاس میں فائبر موجود ہوتا ہے۔ یہ روزانہ گھاس نہیں کھاتے، مگر کبھی کبھار، خاص طور پر برسات کے موسم میں، گھاس کھا لیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق اس سے آنتوں کی حرکت میں اضافہ ہوتا ہے اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ بعض اوقات گلے میں جلن یا معدے کی خرابی کی صورت میں بھی یہ گھاس کھاتے ہیں اور اضافی یا جزوی طور پر ہضم شدہ خوراک کو قے کے ذریعے خارج کر دیتے ہیں۔

شیر اور دیگر گوشت خور جانور کبھی کبھار گھاس کھاتے ہیں، لیکن وہ اسے بطور خوراک یا غذائیت حاصل کرنے کے لیے نہیں کھاتے۔

بھکت شاعر نرسنھ مہتا یونیورسٹی سے وابستہ نشیت دھاریا نے بی بی سی کو بتایا کہ گوشت خور جانوروں کی خوراک میں گوشت کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کی غذا میں فائبر کم ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اسی لیے جب جسم میں فائبر کی کمی ہوتی ہے تو جانور کبھی کبھار گھاس جیسی چیزیں کھا لیتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ’شیر اور ببر شیر سمیت تمام گوشت خور جانور فائبر حاصل کرنے کے لیے گھاس کھاتے ہیں۔ خاص طور پر بعض اوقات شیر زیادہ گھاس کھاتے ہیں کیونکہ ان کے جسم کو زیادہ فائبر درکار ہوتا ہے۔ اس سے ان کے ہاضمے سے متعلق مسائل کم ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’کبھی کبھار شیر بہت زیادہ گھاس کھا لیتے ہیں اور پھر قے کر دیتے ہیں۔‘

جنگلی حیات کے رویوں کا مطالعہ کرنے والے ماہر وویک اوستھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ببر شیر، شیر اور بلی سمیت تمام گوشت خور جانور گھاس کھا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ’گھاس کھانے سے انھیں متلی محسوس ہوتی ہے اور وہ قے کر دیتے ہیں۔ اسی لیے شیر اور ببر شیر عموماً اس وقت گھاس کھاتے ہیں جب انھیں معدے میں درد یا ہاضمے کا کوئی مسئلہ ہو۔ اس طرح ان کے معدے میں موجود غیر ضروری مواد خارج ہو جاتا ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US