راولپنڈی عدالت: علیمہ خان کی درخواستِ بریت مسترد

image

راولپنڈی کی عدالت نے 26 نومبر کیس میں علیمہ خان کی جانب سے دائر کی گئی بریت کی درخواست مسترد کردی۔

علیمہ خان نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 265-K کے تحت بریت کی درخواست دائر کی تھی، جسے عدالت نے دلائل سننے کے بعد خارج کردیا۔

عدالت نے کیس کی مزید سماعت مقرر کرتے ہوئے کارروائی جاری رکھنے کا حکم دے دیا۔

دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی عدالت کے باہر علیمہ خانم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 22 تاریخ کو بانی پی ٹی آئی کا جو پیغام آیا، اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں منظور کی گئی 26 ویں آئینی ترمیم رول آف لا پر براہِ راست حملہ ہے اور یہ عوام کے بنیادی حقوق ختم کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

علیمہ خانم کا کہنا تھا کہ 14 نشستوں والی حکومت نے عوامی ووٹ چوری کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کی اور اسی مقصد کے لیے 26 ویں ترمیم کو ایوان سے منظور کرانے میں غیر معمولی محنت کی گئی۔ بانی پی ٹی آئی نے اسی ترمیم کے خلاف احتجاج کی کال دی کیونکہ یہ عدلیہ کے اختیارات سلب کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت چوری شدہ مینڈیٹ پر قائم ہے اور اسی خوف کے باعث راتوں رات دفعہ 144 نافذ کردی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ چوری کرنے والوں پر آئین کے آرٹیکل 6 کا اطلاق ہونا چاہیے۔

علیمہ خانم نے کہا کہ آج فیصلے ٹی وی شوز میں سنائے جا رہے ہیں اور حکومتی اینکرز سزاؤں کی تاریخیں پہلے ہی بتا دیتے ہیں، جو عدالتی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق ججز کو وہی فیصلے سنانے پڑتے ہیں جو اوپر سے آرڈر میں آتے ہیں، ایک کیس ختم ہوتا ہے تو فوراً دوسرا ڈال دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالتیں آزاد ہوتیں تو بانی پی ٹی آئی آج جیل میں نہ ہوتے۔ القادر کیس میں ایک سال سے اپیل سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو رہی جبکہ ایک اور کیس میں 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

علیمہ خانم کا کہنا تھا کہ اب ہائی کورٹس کھل گئی ہیں اور وہ ہائیکورٹ کے باہر بیٹھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اڈیالہ جیل جانے پر ان پر واٹر کینن استعمال کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ ان کی کم عمر نواسی پر بھی واٹر کینن چلایا گیا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ آئین اور قانون کا راستہ نہیں چھوڑیں گے اور حکومت چاہے جتنا دباؤ ڈالے، وہ بانی پی ٹی آئی کے حق میں کھڑے رہیں گے، چاہے اس کے لیے جیل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US