آپریشن موغادیشو، صدام حسین اور وینزویلا کے صدر کی گرفتاری: انتہائی پرخطر اور خفیہ کارروائیاں کرنے والی امریکی’ڈیلٹا فورس‘ کیا ہے؟

ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا خصوصی دستہ ہے جو انسداد دہشت گردی سمیت یرغمالیوں کو رہا کروانے جیسے آپریشن کرتا ہے اور اس کی زیادہ تر کارروائیاں خفیہ رہتی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد کہا تھا کہ ’یہ ایسا ہی آپریشن تھا جیسا ہم نے ابوبکر البغدادی کے خلاف یا پھر ایرانی جوہری تنصیبات کے خلاف کیا۔‘

ہفتے کے دن اپنی پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’دنیا نے ایسا آپریشن دوسری عالمی جنگ کے بعد نہیں دیکھا۔‘

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’کوئی اور ملک یہ کام نہیں کر سکتا جو ہم نے کر دکھایا۔‘ اس آپریشن میں امریکی ڈیلٹا فورس کو استعمال کیا گیا تھا۔

ڈیلٹا فورس کیا ہے؟

ڈیلٹا فورس امریکی فوج کا خصوصی دستہ ہے جو انسداد دہشت گردی سمیت یرغمالیوں کو رہا کروانے جیسے آپریشن کرتا ہے اور اس کی زیادہ تر کارروائیاں خفیہ رہتی ہیں۔

یہ دستہ 1977 میں کرنل چارلی بکوتھ کی سربراہی میں تشکیل پایا تھا جن کا خیال تھا کہ فوج میں اس طرح کے خصوصی دستے کی ضرورت ہے۔

کرنل چارلی 1970 کی دہائی میں برطانوی سپیشل ایئر سروس کے ساتھ کما کر چکے تھے اور انھوں نے ڈیلٹا فورس کو اسی طرز پر بنایا۔

ڈیلٹا فورس کا بنیادی کام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوتا ہے تاہم یہ امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے ساتھ مل کر خفیہ طریقے سے یرغمالیوں کو رہا کروانے کے لیے بھی آپریشن کرتی ہے۔

امریکی فوج کے تنظیمی ڈھانچے کے مطابق ڈیلٹا فورس امریکی فوج کی ’سپیشل آپریشنز کمانڈ‘ کے تحت آتی ہے جبکہ اسے ’جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ‘ کنٹرول کرتی ہے۔

جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ کا بنیادی مشن ایسی کارروائی کرنا ہوتا ہے جس میں خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ امریکی سپیشل آپریشنز کمانڈ غیر روایتی جنگ سمیت انسداد دہشت گردی جیسی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

ڈیلٹا فورس پر تحریر شدہ کتاب میں شان نیلر نے لکھا ہے کہ اس دستے میں مجموعی طور پر ایک ہزار فوجی ہوتے ہیں۔

امریکن سپیشل آپس ویب سائٹ کے مطابق اس دستے میں شامل ہونے کے لیے کم از کم 21 سال عمر ہونی چاہیے جبکہ فوجیوں کی خفیہ طریقے سے چھان بین بھی ہوتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ ان کا کسی قسم کا مجرمانہ ریکارڈ تو نہیں ہے۔

اہم کارروائیاں

ڈیلٹا فورس کے آغاز کے بعد سب سے اہم کارروائی 1980 میں ہوئی جب تہران کے امریکی سفارت خانے میں یرغمال بنائے جانے والے امریکی شہریوں کو بچانے کے لیے ’ایگل کلا‘ نامی آپریشن کیا گیا۔ تاہم یہ کارروائی ناکام رہی اور اس میں آٹھ امریکی ہلاک ہوئے۔

اس کے باوجود مستقبل کی کارروائیوں کے لیے اسے ایک اہم آپریشن سمجھا جاتا ہے جس کے بعد ’سپیشل آپریشنز ایوی ایشن رجمنٹ‘ بھی قائم کی گئی۔

جولائی 1983 میں ڈیلٹا فورس نے سوڈان میں یرغمال بنائے جانے والے پانچ مشنری کو چھڑوایا جن میں دو امریکی شہری بھی تھے۔

1991 میں ڈیلٹا فورس نے کویت پر عراقی حملے کے بعد ’آپریشن ڈیزرٹ سٹارم‘ میں حصہ لیا۔

1993 میں ڈیلٹا فورس نے صومالیہ میں آپریشن موغادیشو کے دوران جنرل فرح عدید کو گرفتار کرنے کی کوشش کی تاہم اس آپریشن میں 18 امریکی فوجی مارے گئے جبکہ 73 زخمی ہوئے۔

سنہ 2000 ایک میں ڈیلٹا فورس نے افغانستان پر حملے میں حصہ لیا جبکہ 2003 سے 2011 کے دوران یہ فورس عراق میں کاروائیاں کرتی رہی۔ اسی فورس نے ’ریڈ ڈان‘ نامی کارروائی میں سابق عراقی صدر صدام حسین کو بھی حراست میں لیا۔

دستیاب معلومات کے مطابق دیگر کارروائیوں میں لیبیا میں 2012 میں بن غازی حملے کے دوران امریکی سفارت خانے سے عملے کو نکالنے کا آپریشن جبکہ شام میں ابوبکر البغدادی کو ہلاک کرنے کی کارروائی بھی کی گئی۔ اسی فورس نے میکسیکو کے بدنام زمانہ منشیات سمگلر ’ایل چاپو‘ کو گرفتار کیا تھا۔

حال ہی میں غزہ میں ہونے والی جنگ کے دوران پنٹاگون کے ترجمان پیٹرک رائڈر نے اکتوبر 2023 میں عندیہ دیا تھا کہ امریکی سپیشل فورسز یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں موجود ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US