بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے، پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں مؤقف

image

پاکستان نے عالمی سطح پر پانی کی قلت سے متعلق اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ بھارت نے 1960 کے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرکے پاکستان کی آبی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے غیر معمولی بحران پیدا کردیا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے گزشتہ روز اقوامِ متحدہ یونیورسٹی (یو این یو) اور اقوامِ متحدہ میں کینیڈا کے مشن کے اشتراک سے منعقدہ گول میز مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ یہ قدرتی عمل نہیں ہے، بلکہ ایک ریاست دانستہ طور پر پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے اس اقدام کے بعد سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جن میں زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں بغیر اطلاع رکاوٹیں اور آبی معلومات کی فراہمی روکنا شامل ہے۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیاکہ پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے، یہ معاہدہ قانونی طور پر اب بھی برقرار ہے اور اس میں کسی قسم کی یکطرفہ معطلی یا ترمیم کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ اجلاس اقوامِ متحدہ کے محققین کی جانب سے جاری کی گئی اہم رپورٹ گلوبل واٹر بینکرپسی کے بعد منعقد ہوا، جس میں عالمی آبی ایجنڈے کو ازسرِنو ترتیب دینے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ ناقابلِ تلافی نقصان کے باعث کئی آبی ذخائر شدید دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ دریائے سندھ سے سیراب ہونے والے علاقے (Indus River Basin) دنیا کے سب سے بڑے مربوط آبپاشی نظاموں میں سے ایک کو سہارا دیتا ہے، پاکستان کی زرعی ضروریات کے لیے 80 فیصد سے زائد پانی فراہم کرتا ہے اور 240 ملین سے زائد افراد کی زندگی اور روزگار کا ذریعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہائیوں پر محیط یہ معاہدہ پانی کے منصفانہ اور قابلِ اعتماد انتظام کا فریم ورک فراہم کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایک نیم خشک، ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر، زیریں دریا کے کنارے واقع ملک ہیں، جہاں سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کے پگھلنے میں تیزی، زیرِ زمین پانی کی کمی اور تیزی سے بڑھتی آبادی پہلے سے دباؤ کا شکار آبی نظام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان اپنی جانب سے مربوط منصوبہ بندی، سیلاب سے تحفظ، آبپاشی کے نظام کی بحالی، زیرِ زمین پانی کی افزائش اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کے ذریعے آبی استحکام کو مضبوط بنا رہا ہے، جن میں لیونگ انڈس اور ریچارج پاکستان جیسے منصوبے شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیاکہ مشترکہ دریائی نظاموں میں آبی خطرات کا حل صرف قومی اقدامات سے ممکن نہیں۔ سرحد پار آبی نظم و نسق میں پیشگی معلومات، شفافیت اور تعاون زیریں علاقوں میں بسنے والی آبادیوں کی بقا کے لیے ناگزیر ہیں۔

رواں سال ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آبی کانفرنس سے قبل پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ پانی کے عدم تحفظ کو ایک عالمی اور منظم خطرے کے طور پر تسلیم کیا جائے، بین الاقوامی آبی قوانین کے احترام اور تعاون کو مرکزی حیثیت دی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کیے گئے وعدے کمزور زیریں علاقوں کی حقیقی حفاظت میں تبدیل ہوں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US