وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ پورے ملک کے لیے باعثِ رنج ہے اور اس سانحے کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ انہوں نے شہداء کے بلند درجات، لواحقین کے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیراعلیٰ نے ایوان کو اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر 88 افراد لاپتہ تھے جن میں سے ایک زندہ نکل آیا جبکہ 5 نام ڈبل نکلے یوں تصدیق شدہ لاپتہ افراد کی تعداد 82 رہی۔ اب تک 61 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں جبکہ 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 61 میں سے 9 افراد کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے اور مجموعی طور پر 15 لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے جبکہ 45 لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں اور 9 کے نمونے باقی ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ آگ 10 بج کر 14 منٹ پر گراؤنڈ فلور کی ایک دکان میں لگی، 10 بج کر 26 منٹ پر پہلی کال موصول ہوئی اور 10 بج کر 27 منٹ پر سول اسپتال فائر اسٹیشن سے پہلا فائر ٹینڈر روانہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ 16 منٹ بعد ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچ چکے تھے اور پولیس بھی موجود تھی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا جرم ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ غفلتیں اور کوتاہیاں ضرور ہوئی ہیں اور ان کا سدباب کیا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی ایف آئی آر درج کی جائے گی اور تمام ذمہ داروں کو سزا دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے متاثرین کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ہر دکاندار کو فوری طور پر 5 لاکھ روپے گزارہ الاؤنس اور کے سی سی آئی کے ذریعے سامان کا معاوضہ دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا بلاسود قرضہ دیا جائے گا جس کا سود حکومت سندھ ادا کرے گی اور دو ماہ میں تمام دکانداروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے گی جبکہ گل پلازہ کو گرا کر اسے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور دو سال میں تعمیر مکمل ہو گی نئی تعمیر میں ایک بھی اضافی دکان نہیں بنے گی۔
انہوں نے بتایا کہ متبادل دکانوں کے لیے دو عمارتیں دیکھی گئی ہیں جن میں ایک میں 500 اور دوسری میں 350 دکانیں ہیں جبکہ عمارت مالکان نے ایک سال تک کرایہ نہ لینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ کوشش کی جائے گی کہ دو سال تک یہ دکانیں مفت فراہم کی جائیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے بھر میں تمام عمارتوں کا آڈٹ شروع ہو چکا ہے اور اب تک 300 سے زائد عمارتوں کا جائزہ لیا جا چکا ہے۔ حفاظتی انتظامات نہ ہونے والی عمارتوں کو مختصر وقت دیا جائے گا اور عمل نہ کرنے کی صورت میں انہیں سیل کر دیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام امدادی اداروں کو ایک کمان کے تحت لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تمام عمارتوں کے لیے لازمی انشورنس کا قانون بنایا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سانحات میں عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے، چاہے وہ آگ کے واقعات ہوں، سیلاب ہو یا بارشیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بیک ڈیٹ میں لیز منظور کرتے رہے آج وہی اس کے خلاف قراردادیں پیش کر رہے ہیں۔
کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کیلیے ساڑھے 21 ارب روپے کی منظوری
حکومت سندھ نے کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے اور خستہ حال سڑکوں کی بہتری کے لیے ساڑھے 21 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کی 26 بڑی سڑکوں کی بحالی کے لیے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان سڑکوں کی بحالی پر تقریباً 13 ارب روپے خرچ ہوں گے۔
میئر کراچی نے اجلاس میں شہر کی مجموعی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں اس وقت 409 سڑکیں خستہ حال ہیں جن کی مرمت کی فوری ضرورت ہے۔
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ کراچی میں 400 سڑکوں پر استرکاری کی جائے گی جبکہ 9 سڑکوں کی مکمل تعمیر نو کی منظوری دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ترقیاتی کاموں میں معیار، شفافیت اور بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے افسران اور کے ایم سی حکام نے شرکت کی۔