کراچی کے نوجوان میر رضا کیس میں پولیس کو شرٹ کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ موصول ہوگئی ہے، جس کے مطابق مقتول کی شرٹ سے نمک کے تیزاب کے شواہد ملے ہیں جبکہ ان کے خون کے نمونوں میں بےہوشی کی دوا کے اجزاء بھی پائے گئے ہیں۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز قبل لیب بھیجی گئی شرٹ کی جانچ کے دوران گن شاٹ ریزیڈیو (جی ایس آر) کمر کی جانب زیادہ مقدار میں پایا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گولی کمر کی سمت سے ماری گئی تھی۔
دوسری جانب کیس کی تفتیش کے دوران پولیس کی مزید خامیاں اور غفلت بھی سامنے آئی ہے، جہاں واقعے کے کئی دن گزر جانے کے باوجود اب تک جائے وقوع کی جیو فینسنگ کروائی گئی اور نہ ہی مقتول کا موبائل ڈیٹا ریکارڈ حاصل کیا جاسکا ہے۔ علاوہ ازیں تفتیشی حکام کی جانب سے میر رضا کی اسمارٹ واچ کی بھی اب تک فرانزک جانچ نہیں کروائی گئی ہے۔