عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کا معاملہ، بیرسٹر سلمان صفدر کے تحریری دلائل جمع

image

بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قید تنہائی کے خلاف کیس میں عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں تحریری دلائل جمع کرا دیے۔

تحریری دلائل میں بیرسٹر سلمان صفدر نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو حقائق کے منافی اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے عدالت سے معاملے کی آزادانہ جانچ کرانے کی استدعا کی ہے۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حقائق جاننے کے لیے عدالتی معاون، لوکل کمیشن یا فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا جائے۔ کمیشن کو عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرکے صورتحال کا جائزہ لینے اور اس حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی جائے۔

تحریری دلائل میں عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں طلب کرکے قید تنہائی سے متعلق ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں جبکہ ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ان کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکتے ہیں۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید تجویز دی کہ ایک بااختیار بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ماہرین، ریاست اور درخواست گزاروں کے نمائندے شامل ہوں۔ بورڈ سینٹرل جیل اڈیالہ کا دورہ کرکے قیدیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور متعلقہ ریکارڈ کا معائنہ کرے اور قید تنہائی کے معاملے پر اپنی آزادانہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔

تحریری دلائل میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے قیدیوں کو ویڈیو لنک کے ذریعے بات چیت کی فراہم کردہ سہولت عمران خان کو بھی دی جائے، جبکہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کتابیں اور ٹی وی کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اپنایا کہ عمران خان کے وکلا 300 سے زائد مقدمات میں ان کی نمائندگی کر رہے ہیں اس لیے جیل رولز کے مطابق قانونی ٹیم کو بلا رکاوٹ ملاقات کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی کہ جیل قواعد کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اہل خانہ اور دوستوں سے ہفتہ وار ملاقاتیں یقینی بنائی جائیں اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ہدایت کی جائے کہ ملاقاتوں میں غیر ضروری پابندیاں یا رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔

تحریری دلائل میں عمران خان کی میڈیکل رپورٹس اور مکمل طبی ریکارڈ فراہم کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے جبکہ عدالت کو بھی طبی ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US