محمود شاہ حبیبی: ایمن الظواہری کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کابل سے لاپتہ امریکی شہری اور 50 لاکھ ڈالر انعام

افغانستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق سربراہ امریکی نژاد افغان شہری محمود شاہ حبیبی کو لاپتہ ہوئے چار سال گزر چکے ہیں اور تاحال ان کی واپسی ممکن نہیں ہو سکی۔

افغانستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے سابق سربراہ اور امریکی نژاد افغان شہری محمود شاہ حبیبی کو لاپتہ ہوئے چار سال گزر چکے ہیں اور تاحال یہ نہیں پتا چل سکا کہ وہ کہاں ہیں اور کن حالات میں ہیں۔

امریکہ کی فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف بی آئی) کے مطابق اگست 2022 کے دوران طالبان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلیجنس نے محمود شاہ اور اُن کے ڈرائیور کو حراست میں لیا تھا۔

اپنی گمشدگی کے وقت محمود شاہ کابل میں قائم ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’ایشیا کنسلٹنسی گروپ‘ کے لیے بطور مشیر کام کر رہے تھے۔ اِس سے قبل وہ افغانستان کے ڈائریکٹر سول ایوی ایشن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔

سنہ 2025 میں ایف بی آئی واشنگٹن فیلڈ آفس نے محمود شاہ کی گمشدگی اور تحقیقات سے متعلق ایک پوسٹر جاری کیا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے محمود کے موجودہ مقام، بازیابی اور اُن کی واپسی یقینی بنانے کی غرض سے کسی بھی نوعیت کی معلومات کے عوض 50 لاکھ ڈالر تک کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

اور اب اگست 2026 میں ایک مرتبہ پھر حکام کی جانب سے اس معاملے پر اپیل کی گئی ہے۔

امریکی حکام اور محمود شاہ حبیبی کے اہلخانہ کا الزام ہے کہ وہ اب بھی طالبان کی حراست میں ہیں، تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس معاملے پر کہا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی گئیں جس کے بعد یہ معلوم ہوا کہ حبیبی 'اُن کی جیلوں میں نہیں ہیں۔‘

اُن کے بھائی احمد شاہ حبیبی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وہ کئی سال سے طالبان کے سینیئر حکام سے بار بار درخواست کر رہے ہیں لیکن کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔ ’ہم مُلا برادر تک گئے ہیں، ہم نے سب سے مدد مانگی ہے اور اُن سے معذرت بھی کی ہے۔ کچھ نے وعدے کیے، لیکن بعد میں معذرت کر لی اور کہا کہ یہ اُن کے اختیار سے باہر ہے۔‘

پُراسرار گمشدگی

افغانستان اور امریکہ کی دوہری شہریت رکھنے والے محمود شاہ حبیبی سنہ 2019 سے کابل میں امریکی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ایشیا کنسلٹنسی گروپ (اے آر ایکس) کے ساتھ بطور تکنیکی مشیر کام کر رہے تھے۔ وہ کابل پر افغان طالبان کے قبضے کے دوران اِسی شہر میں موجود تھے۔

سنہ 2017 میں افغان صدر اشرف غنی نے انھیں سول ایوی ایشن اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا لیکن انھوں نے متعدد وجوہات کی بنا پر سنہ 2019 میں استعفیٰ دے دیا تھا۔

وہ ملک کے ہوائی اڈوں کے انتظام، فضائی ٹریفک کنٹرول، پروازوں کی سکیورٹی، بین الاقوامی کمپنیوں کی نگرانی، مواصلات، سول ایوی ایشن انسٹیٹیوٹ اور موسمیات کے محکموں کے ذمہ دار تھے۔

وہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے ساتھ بھی بطور انتظامی ماہر کام کر چکے تھے۔

محمود شاہ حبیبی نے امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں واقع ایمبری رِڈل ایرو ناٹیکل یونیورسٹی سے ایوی ایشن مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

بی بی سی پشتو کی ایک رپورٹ کے مطابق محمود شاہ جبیبی کے بھائی احمد شاہ حبیبی کا کہنا ہے کہ 15 اگست 2022 کو اُن کے بھائی کابل کے علاقے شیرپور میں اپنے گھر سے دفتر جا رہے تھے، جب طالبان انھیں اور اُن کے ڈرائیور کو اپنی حراست میں لے کر اپنے ساتھ لے گئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’طالبان کے انٹیلیجنس اہلکاروں نے ایک گھنٹے کے لیے پوری گلی بند کر دی تھی۔ میری بہن بھی اس گھر میں رہتی تھیں۔ طالبان نے دروازہ توڑا اور تلاشی کے بعد میرا بھائی، اُن کا لیپ ٹاپ اور کچھ دستاویزات اپنے ساتھ لے گئے۔‘

احمد شاہ کا کہنا ہے کہ جس کمپنی میں اُن کے بھائی کام کرتے تھے، اس نے طالبان حکومتِ اور افغانستان کی وزارت مواصلات کو ایک سرکاری خط بھیجا تھا جس میں گرفتار کیے گئے کئی ملازمین کے بارے میں معلومات طلب کی گئی تھیں۔

’اِس خط میں میرے بھائی کا نام بھی شامل تھا۔ وزیر مواصلات نے جواب میں لکھا کہ یہ لوگ انٹیلیجنس سروس کے پاس ہیں اور اُن سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

کمپنی کے دیگر 29 ملازمین کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا اور انھوں نے محمود حبیبی کے خاندان کو بتایا کہ انھیں طالبان کے انٹیلیجنس ادارے نے حراست میں رکھا ہوا تھا اور محمود شاہ حبیبی سمیت دو افراد اب بھی وہیں موجود ہیں۔

ایمن الظواہری کی ہلاکت اور طالبان کے شکوک

ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن
Reuters
ایمن الظواہری (دائیں) جولائی 2022 میں کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے

حبیبی کے خاندان کا خیال ہے کہ محمود شاہ کی گرفتاری ممکنہ طور پر القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت سے منسلک ہو سکتی ہے، کیونکہ اُن کے بقول انھیں اِسی واقعے کے چند روز بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 31 جولائی 2022 کو نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ تصور کیے جانے والے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کو افغان دارالحکومت کابل کے علاقے وزیر اکبر خان میں واقع ایک گھر پر امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔

امریکی حکام نے اس وقت بتایا تھا کہ ایمن الظواہری اپنے محفوظ ٹھکانے کی بالکونی پر تھے جب ڈرون کی مدد سے ان پر دو میزائل داغے گئے تھے۔ طالبان نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا تھا مگر اپنے بیان میں ظواہری کا نام نہیں لیا تھا۔

بی بی سی پشتو کے مطابق محمود شاہ کے بھائی احمد شاہ کہتے ہیں کہ ’طالبان کو شبہ ہے کہ جس کمپنی میں اُن کے بھائی کام کرتے تھے، وہ ممکنہ طور پر الظواہری کی ہلاکت میں ملوث تھی۔‘

’میرے بھائی کا دفتر واقعے کی جگہ کے قریب تھا اور جو لوگ اُن کے ساتھ گرفتار کیے گئے تھے، طالبان نے اُن سے اس واقعے اور مواصلاتی ٹاورز پر نصب سکیورٹی کیمروں کی موجودگی کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ کمپنی کے افغانستان بھر میں 500 سے زیادہ ٹیلی کمیونیکیشن ٹاورز ہیں، جن میں بہت سے ٹاورز پر کیمرے بھی نصب تھے۔

احمد شاہ کا کہنا ہے کہ الظواہری کی ہلاکت کے بعد، دبئی سے کابل کے درمیان اُن کے بھائی کا سفر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اُن کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

’بائیڈن نے وعدہ کیا تھا‘

احمد شاہ حبیبی کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ سابق امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اُن سے وعدہ کیا تھا کہ اُن کے بھائی کو طالبان کی قید سے رہا کروا لیا جائے گا۔

احمد شاہ حبیبی کا کہنا تھا کہ طالبان قیدیوں کے معاملے میں دوہرا معیار رکھتے ہیں، یعنی امریکی شہریوں کو دیگر سہولتوں کے علاوہ اپنے خاندانوں سے باقاعدہ ٹیلی فون پر بات کرنے اور ملاقات کی سہولت دی جاتی ہے۔

'مجھے طالبان سے یہ شکایت ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں جو افغان شہری نہیں ہیں، لیکن ہمارے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں۔'

بائیڈن انتظامیہ نے قطر کی ثالثی میں طالبان کے ساتھ ان امریکی شہریوں کے بارے میں مذاکرات شروع کیے تھے جن میں محمود شاہ حبیبی بھی شامل تھے۔

مذاکرات کے نتیجے میں 21 جنوری 2025 کو ریان کوربیٹ اور ولیم میک اینٹی کا تبادلہ افغان قیدی خان محمد کے ساتھ کیا گیا۔

طالبان نے مارچ 2025 کے دوران امریکی شہری جارج گلیزمین اور پھر مارچ 2026 میں ڈینس کوائل کو رہا کیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ کم از کم دو دیگر امریکی شہری اب بھی افغانستان میں قید ہیں۔

ان میں سے ایک محمود شاہ حبیبی ہیں اور دوسرے پال اووربائی جنھیں آخری مرتبہ 2014 میں خوست شہر میں دیکھا گیا تھا جہاں وہ ایک نئی کتاب کے لیے تحقیق کر رہے تھے۔

جنوری میں طالبان کے ایک اہلکار نے اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا تھا کہ وہ اِِن دو امریکیوں کی رہائی کے بدلے گوانتانامو بے میں قید افغان شہری اور القاعدہ کے ایک مبینہ قاصد کی واپسی چاہتے ہیں۔

امریکہ طالبان کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس ملک میں اس کی کوئی باضابطہ سفارتی موجودگی ہے۔ اس کی وجہ سے مذاکرات پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ مذاکرات اکثر قطر جیسے ثالثوں کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔

مارچ 2026 کے دوران امریکہ نے افغانستان کو ’سٹیٹ سپانسر آف رانگفل ڈیٹنشن‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ طالبان سفارتی دباؤ میں کمی کے لیے اپنے زیرِ حراست قیدیوں کو استعمال کر رہے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US