وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے نومنتخب چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے ملاقات کی، جس میں سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری مسابقت، ڈیجیٹل تبدیلی، ریگولیٹری اصلاحات اور نجی شعبے کی معاشی ترقی میں شمولیت کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے زید بشیر کو پاکستان بزنس کونسل کا چیئرمین منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری اداروں کو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا، جبکہ جدید کاروباری ماڈلز اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے کارکردگی اور مسابقت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
ملاقات میں حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان مزید مؤثر اور نتیجہ خیز رابطہ کاری کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے پاکستان بزنس کونسل کو شعبہ جاتی بنیادوں پر مختصر اور قابلِ عمل تحقیق کے ذریعے حکومت کو عملی تجاویز فراہم کرنے کی ترغیب دی، تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی اور کاروباری مشکلات کے حل میں مدد مل سکے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو عالمی تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور کاروباری ماحول کو بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ انہوں نے حکومتی اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون کو معاشی ترقی کے لیے اہم قرار دیا۔
وزیر خزانہ نے ریگولیٹری فریم ورک کو مزید مؤثر اور آسان بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اصلاحات کا مقصد کاروباری سرگرمیوں میں سہولت، مسابقت میں بہتری اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔
ملاقات میں امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) سمیت عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے بین الاقوامی فنانسنگ اور سرمایہ کاری کے حصول کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ممکنہ سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے سامنے مخصوص، تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل اور سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبے پیش کرنا ضروری ہے۔
ملاقات کے دوران ٹیکس پالیسی اور وسط مدتی ٹیکس پالیسی فریم ورک پر جاری کام بھی زیر بحث آیا۔ وزیر خزانہ نے کاروباری برادری کی منظم تجاویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری، مسابقت اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ٹیکس نظام کی تشکیل میں وسیع مشاورت ضروری ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پالیسی اور ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی جبکہ نجی شعبے کو سرمایہ کاری، جدت، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین زید بشیر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جاوید قریشی نے حکومت کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل رابطے کو سراہا اور معاشی و مالیاتی اصلاحات کی سمت کا خیرمقدم کیا۔
پی بی سی قیادت نے موجودہ وفاقی بجٹ کو حالیہ برسوں کے امید افزا بجٹ میں شمار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ شعبہ جاتی تجاویز اور سرمایہ کاری کے ماحول، کاروباری مسابقت اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔