امریکہ کے ایک جج نے انڈیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں سے ایک گوتم اڈانی کے خلاف رشوت اور فراڈ کے ایک بڑے مقدمے میں فوجداری الزامات خارج کر دیے ہیں۔
2024 میں اڈانی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے قابلِ تجدید توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے انڈین حکام کو مبینہ طور پر رشوت دی اور اس بارے میں امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔ تاہم اڈانی اور ان کی کمپنیوں نے بارہا اس کی تردید کی ہےامریکہ کے ایک جج نے انڈیا کے امیر ترین کاروباری افراد میں سے ایک گوتم اڈانی کے خلاف رشوت اور فراڈ کے ایک بڑے مقدمے میں فوجداری الزامات خارج کر دیے ہیں۔
2024 میں اڈانی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے قابلِ تجدید توانائی کے اہم منصوبوں کے لیے انڈین حکام کو مبینہ طور پر رشوت دی اور اس بارے میں امریکی سرمایہ کاروں کو گمراہ کیا۔ اڈانی اور ان کی کمپنیوں نے بارہا اس کی تردید کی ہے۔
اڈانی نے عدالتی حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس فیصلے کو عدالتی عمل کے لیے ’گہرے احترام‘ کے ساتھ قبول کیا ہے۔
پیر کو امریکی ڈسٹرکٹ جج نیکولس گرافز نے 47 صفحات پر مشتمل فیصلے میں محکمۂ انصاف کی جانب سے اڈانی کے خلاف الزامات ختم کرنے کی درخواست منظور کی۔ تاہم جج نے اس فیصلے تک پہنچنے کے طریقۂ کار پر سخت تنقید بھی کی۔
انھوں نے کہا کہ محکمۂ انصاف کے پرنسپل ایسوسی ایٹ ڈپٹی اٹارنی جنرل آر ٹرینٹ میکوٹر نے مقدمے کو خارج کرنے کے معاملے پر اڈانی کے وکلا کے ساتھ کام کیا۔ لیکن ان استغاثہ کے وکلا اور تفتیش کاروں سے مشاورت نہیں کی جنھوں نے یہ مقدمہ قائم کیا تھا۔
جج گرافز نے اس عمل کو ’انتہائی غیر معمولی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر میکوٹر نے اپنی رائے کو ان حکام کی رائے پر ترجیح دی جو براہِ راست تحقیقات میں شامل تھے۔
بی بی سی نے عدالت میں جمع کرایا گیا سرکاری حکم نہیں دیکھا تاہم اس نے غیر منافع بخش امریکی عدالتی آرکائیو ’کورٹ لسنر‘ کی جانب سے شائع کی گئی اس کی ایک نقل کا جائزہ لیا ہے۔ دیگر خبر رساں اداروں نے بھی اس فیصلے کا جائزہ لیا ہے۔
مئی میں محکمۂ انصاف نے الزامات ختم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مبینہ سرگرمیوں کا بڑا حصہ امریکہ سے باہر پیش آیا تھا جس کے باعث مقدمے کی پیروی مشکل تھی اور یہ کہ اس کی پیروی اب محکمۂ انصاف کی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب اڈانی نے ایک نئی قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کیں جس کی قیادت رابرٹ جے جیوفرا جونیئر کر رہے تھے جو امریکی قانونی فرم سلوین اینڈ کرومویل کے شریک چیئرمین اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جیوفرا نے رواں سال کے آغاز میں محکمۂ انصاف کے حکام سے ملاقات کر کے مقدمے کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔
مقدمہ خارج مگر امریکی جج کی جانب سے تحفظات کا اظہار
جج گرافز نے ابتدا میں حکومت کی درخواست کو قبول کرنے سے گریز کیا تھا۔ جون میں انھوں نے کہا کہ استغاثہ ترک کرنے کے حکومتی مؤقف کی وضاحت ناکافی ہے اور حکام کو مزید معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔
انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اڈانی کا امریکہ میں 10 ارب ڈالر (7.5 ارب پاؤنڈ) سرمایہ کاری اور 15,000 ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ اس فیصلے میں کسی کردار کا حامل تھا۔
اڈانی نے نومبر 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ایک پوسٹ میں اس سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ایسی اطلاعات سامنے آئیں کہ اڈانی کے وکلا نے اس مقدمے کے بارے میں محکمۂ انصاف کے ساتھ بات چیت کے دوران اس سرمایہ کاری کا ذکر کیا تھا۔
اڈانی کے وکلا نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری الزامات ختم کرنے کے بدلے میں کبھی پیش نہیں کی گئی تھی۔
بالآخر جج گرافز اس نتیجے پر پہنچے کہ اس سرمایہ کاری نے محکمۂ انصاف کے فیصلے پر اثر نہیں ڈالا تھا۔
تاہم انھوں نے کہا کہ عوام خود یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ ایسی بات چیت مساوی انصاف اور قانون کی حکمرانی کے تاثر کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔
جج نے یہ بھی قرار دیا کہ بظاہر میکوٹر کا فیصلہ استغاثہ کے اِن وکلا یا فیڈرل بیورو آف انویسٹیگیشن (ایف بی آئی) اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے تفتیش کاروں کی مؤثر رائے کے بغیر کیا گیا تھا جنھوں نے ابتدا میں مقدمہ دائر کیا تھا۔
گرافز نے لکھا کہ ’فردِ جرم کو خارج کرنے کے فیصلے میں بے ضابطگیاں تشویش کا باعث ہیں۔‘
اڈانی کے خلاف الزامات کو مستقل طور پر خارج کیا گیا جس کا مطلب ہے کہ انھیں دوبارہ عائد نہیں کیا جا سکتا۔
اڈانی اس کارروائی کے دوران کبھی بھی امریکی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ انھوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ انھوں نے ایکس پر لکھا کہ ’اس مشکل دور کے دوران سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ہمارا یقین متزلزل نہیں ہوا۔‘
63 سالہ گوتم اڈانی دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور فوربز کے مطابق اُن کی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر ہےامریکہ میں دیگر مقدمات پر تصفیہ
یہ فوجداری مقدمہ امریکہ میں اڈانی اور ان کی کمپنیوں کے خلاف جاری دیگر کارروائیوں سے الگ تھا۔
مئی میں سرمایہ کاروں کو معلومات فراہم کرنے سے متعلق الزامات میں اڈانی نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کو 60 لاکھ ڈالر جبکہ ان کے بھتیجے ساگر اڈانی نے 1 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ دونوں نے ان الزامات کا اعتراف یا ان کی تردید نہیں کی تھی۔
ایک الگ کیس میں اڈانی گروپ کی مرکزی کمپنی اڈانی انٹرپرائزز نے ایران کے خلاف عائد امریکی پابندیوں کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تصفیے کے لیے 27 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس وقت ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد اڈانی گروپ کے خلاف امریکہ میں تینوں قانونی مقدمات اب نمٹا دیے گئے ہیں جس کے بعد گوتم اڈانی کی قانونی کارروائی کے خطرے کے بغیر امریکہ کا سفر کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
گوتم اڈانی کون ہیں؟
گوتم اڈانی انڈین ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں اور اڈانی گروپ کے چیئرمین ہیں۔ اس گروپ کے کاروبار میں بندرگاہیں، ہوائی اڈے، بجلی کی پیداوار اور ترسیل، گرین انرجی، سیمنٹ اور رئیل سٹیٹ سمیت دیگر شعبے شامل ہیں۔
اڈانی کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں بھی ہوتا ہے اور فوربز کے مطابق اُن کی دولت کا تخمینہ 82 ارب ڈالر ہے۔ ان کی سرپرستی میں چلنے والا اڈانی گروپ، انڈیا کے بڑے کاروباری گروپس میں شامل ہے، جس کے مفادات توانائی، بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں سمیت مختلف شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔
بزنس میگزین فوربز کے مطابق اڈانی نے اپنی کمپنی کی شروعات سنہ 1988 میں کی تھی۔
موجودہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی (جو پہلے گجرات کے وزیر اعلی بھی رہ چکے ہیں) کے ساتھ قریبی تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھوں نے قرضے حاصل کر کے نئے شعبوں میں اپنا کاروبار کو فروغ دیا۔
فوربز کے مطابق اڈانی گروپ کا شمار انڈیا کی سب سے بڑی ہوائی اڈے چلانے والی کمپنیوں میں ہوتا ہے اور ان کے پاس آٹھ ہوائی اڈے ہیں اور مندرہ پورٹ بھی، جو انڈیا کی سب سے بڑی کارگو صلاحیت والی بندرگاہ ہے۔
اڈانی 2022 میں اس وقت انڈیا کے دوسرے سب سے بڑے سیمنٹ پروڈیوسر بن گئے جب ان کی کمپنی نے سوئس کمپنی ’ہولسِم‘ کے انڈیا میں موجود اثاثے 6.4 ارب ڈالر میں خریدے۔
64 سالہ اڈانی، اڈانی گروپ کے چیئرمین ہیں جو توانائی، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے کاروباروں میں مفادات رکھنے والا ایک وسیع کاروباری گروپ ہے۔
وہ انڈیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں اور انھیں وزیرِ اعظم نریندر مودی کا قریبی دوست سمجھا جاتا ہے۔ دونوں کا تعلق مغربی ریاست گجرات سے ہے۔