اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے آج اہم اقتصادی اور شعبہ جاتی اقدامات کی منظوری دی، جس کا مقصد خوراک کی حفاظت، توانائی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری لانا اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینٹرل محمد اورنگزیب نے کی۔
اجلاس میں وزیر قومی خوراک و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی سیکرٹریز اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی نے PASSCO کے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم کے اسٹاک کی فروخت مسابقتی بولی کے ذریعے کرنے کی منظوری دی تاکہ اضافی ذخائر کم کیے جائیں، ذخیرہ و لاگت میں کمی آئے اور گندم کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ اس کے علاوہ 3 لاکھ میٹرک ٹن گندم پنجاب حکومت کے فوڈ اینڈ کنزیومر پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کو فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آٹا ملوں کے لیے گندم کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے اور صارفین تک آٹا بلا تعطل پہنچے۔
توانائی کے شعبے میں، کمیٹی نے پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے واجبات کی ادائیگی کے لیے 10.98 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔
صحت کے شعبے میں وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف ایمیونائزیشن کے لیے 29.663 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی تاکہ ویکسینز اور سرنجز کی خریداری میں رکاوٹ نہ آئے اور ملک بھر میں حفاظتی ٹیکہ کاری کا معمول جاری رہے۔
زرعی شعبے میں، درآمد شدہ یوریا پر سبسڈی کو وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان 50:50 بنیاد پر تقسیم کرنے کی منظوری دی گئی، جس کے لیے 23.42 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے۔
ہاؤسنگ اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی اسکیموں کے لیے 1.9 ارب روپے کی گرانٹ دی گئی جبکہ کیڈٹ کالج حسن ابدال کے لیے 150 ملین روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور ہوئی۔
آخر میں، گلگت بلتستان میں بجلی کی کمی دور کرنے اور شمسی توانائی کے فروغ کے لیے ضبط شدہ سولر پینلز کی تقسیم اور اس کی نقل و حمل کی منظوری دی گئی۔