ایف آئی اے کراچی کی تاریخ کی سب سے بڑی ریکوری کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان پہنچانے والی پیٹرولیم کمپنی نے ادائیگیاں شروع کر دی ہیں۔
ایف آئی اے کراچی کے کارپوریٹ کرائم سرکل کے سربراہ ایاز مہر نے اپنی زیرِ نگرانی جاری تحقیقات سے متعلق مفصل رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جمع کرا دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم کمپنی نے 2019 سے 2022 کے دوران پیٹرول کی فروخت پر عائد لیوی کی رقم مبینہ فراڈ کے ذریعے حکومتی خزانے میں جمع نہیں کرائی، جس سے قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس فراڈ کے مدعی وزارتِ توانائی و پیٹرولیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر اشفاق احمد تھے جبکہ کیس میں 13 افراد کو نامزد کیا گیا جن میں کمپنی کے مالکان، دو خواتین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین شامل ہیں۔ نامزد ملزمان میں سابق ایم ڈی کے الیکٹرک تابش گوہر کا نام بھی شامل ہے۔
مزید بتایا گیا کہ دو برس تک مختلف تفتیشی افسران کی جانب سے تحقیقات جاری رہیں، جس کے بعد کمپنی نے 47 ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کروانے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس سلسلے میں کمپنی نے ایک ارب روپے کی پہلی قسط نقد ادا کر دی ہے، جبکہ باقی 46 ارب 40 کروڑ روپے کے پوسٹ ڈیٹڈ چیکس اور غیر مشروط و اٹل بینک گارنٹی بھی جمع کروا دی گئی ہے۔
اس حوالے سے ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کے سربراہ ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز مہر نے تصدیق کی ہے کہ مذکورہ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں جمع کرا دی گئی ہے۔