قومی اسمبلی نے بلوچستان میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد میں ایوان نے بلوچستان میں پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
قرارداد کے متن کے مطابق ایوان نے دہشت گردوں کی جانب سے خواتین کے استحصال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور اسے ناقابلِ برداشت قرار دیا۔ ایوان نے واضح کیا کہ خواتین، بچوں اور معصوم شہریوں کے خلاف جرائم ناقابلِ تلافی اور انسانیت سوز ہیں۔
قومی اسمبلی نے سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کیے گئے مؤثر اقدامات کو سراہا اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
قرارداد میں بلوچستان میں دہشت گردی کے پسِ پردہ بیرونی مداخلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبے میں ہندوستان کے کردار کے حوالے سے سنجیدہ خطرات موجود ہیں۔ ایوان نے مطالبہ کیا کہ بیرونی اسپانسرز اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔
قرارداد میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے، اور ریاست اپنے عوام کے تحفظ، امن و امان اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔