خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مختلف جھڑپوں کے دوران 24 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق 4 اور 5 فروری کو صوبے میں دو الگ الگ کارروائیاں کی گئیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگرد بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔ ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا جس کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے۔
اسی طرح ضلع خیبر میں بھی خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے کے دوران مزید 10 خوارج مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق علاقے میں بھارتی سرپرست دیگر خوارج کے خلاف سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جن کا مقصد باقی ماندہ دہشتگرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ انسدادِ دہشتگردی کی یہ کارروائیاں وژن عزمِ استحکام کے تحت کی جا رہی ہیں اور بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن کریک ڈاؤن پوری شدت سے جاری ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے اورکزئی اور خیبر کے اضلاع میں فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب سیکیورٹی آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ان کی بھرپور پزیرائی کی ہے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے ناسور کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کسی بھی صورت دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔