مسقط مذاکرات پر امریکہ اور ایران دونوں مطمئن، اب آگے کیا ہوگا؟

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات ’بہت اچھے‘ رہے اور ایران ’بہت شدت سے معاہدہ چاہتا ہے‘۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ’نتائج بہت سخت ہوں گے۔‘ امریکی صدر نے مزید بتایا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ انھوں (ایران) نے اب اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔‘
الرئيس ترامب يغادر البيت الأبيض متوجهاً إلى فلوريدا، واشنطن، الولايات المتحدة الأمريكية - 6 فبراير 2026
EPA

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عمان میں ہونے والے مذاکرات ’بہت اچھے‘ رہے اور ایران ’بہت شدت سے معاہدہ چاہتا ہے‘۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ’نتائج بہت سخت ہوں گے۔‘

جمعے کو عمان میں شروع ہونے والے مذاکرات گذشتہ جون کے بعد پہلی مرتبہ ہیں جب امریکہ نے ایران کی تین بڑی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کیا تھا۔

ایرانی وفد کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کی جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے تھے۔

عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسیدی، جو ان مذاکرات کے ثالث تھے، نے کہا کہ بات چیت ’مفید رہی اور فریقین کی سوچ کو واضح کرنے میں مدد ملی‘۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ مذاکرات ’اچھا آغاز‘ ہیں اور ’مثبت ماحول‘ میں ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ وفود اب مشاورت کے لیے اپنے اپنے دارالحکومت واپس جا رہے ہیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ممکنہ تصادم کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’بہت فکر مند ہونا چاہیے‘۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو وہ فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور وہ بارہا امریکی اور اتحادیوں کے الزامات کو مسترد کر چکا ہے۔

العلمان الإيراني والأمريكي في صورة تعبيرية تظهرهما متادخلين.
Getty Images

امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بھی بڑھا دی ہے، جسے ٹرمپ نے ’ایک بڑی بحری بیڑہ‘ قرار دیا ہے۔ یہ اقدام ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے سخت کریک ڈاؤن کے بعد کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، تاہم انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث درست اعداد و شمار سامنے نہیں آ سکے۔

صدر ٹرمپ نے امریکی صدارتی طیارے میں سفر کے دوران صحافیوں کو مزید بتایا کہ ’ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ کیا ہے، لیکن میرے خیال میں ایران ڈیل حاصل کرنے کا بہت خواہشمند ہے، جیسا کہ انھیں ہونا چاہیے۔ پچھلی بار انھوں نے ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ انھوں نے اب اپنا ارادہ بدل لیا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معاہدہ کیا ہے، اور یہ یقینی طور پر پچھلی بار سے مختلف ہوگا۔‘

ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایک بڑا بحری بیڑا ہے، ایک بہت بڑی بحریہ جو اس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور جلد ہی وہاں موجود ہو گی۔ لہٰذا ہم دیکھیں گے کہ معاملات کیسے چلتے ہیں۔‘

ایک رپورٹر کے پوچھے جانے پر کہ ٹرمپ کتنا انتظار کریں گے، انھوں نے کہا کہ ’ہمارے پاس بہت وقت ہے۔ اگر آپ کو وینزویلا یاد ہے تو ہم نے کچھ دیر انتظار کیا اور ہمیں کوئی جلدی نہیں تھی۔‘

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’ہم اگلے ہفتے کے اوائل میں دوبارہ ملیں گے اور وہ ایک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، آپ ڈیل نہ کرنے کے نتائج جانتے ہیں، نتائج واضح ہیں، اس لیے ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ یہ ملاقات ایک بہت ہی اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے ساتھ تھی اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

امریکی صدر نے معاہدے کی شرائط کے بارے میں یہ بھی کہا کہ ’پہلے تو جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ہم دو سال پہلے اس طرح کے معاہدے پر پہنچ سکتے تو شاید یہ معاہدہ ہو چکا ہوتا، لیکن وہ اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اب وہ رضامند ہیں اور یہاں تک کہ ڈیڑھ سال پہلے بھی رعایتیں دینے کے لیے تیار ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’تاہم، یہ واضح رہے کہ ہم بالکل ایک سال سے اس پر عمل پیرا ہیں اور ہم نے اس صدارتی مدت کے آغاز کے چند ماہ بعد ہی اس رستے کا انتخاب کیا۔‘

’امریکہ نے ایران سے متعلق اپنی حکمت عملی بدلی ہے‘

ایرانی امور پر گہری نظر رکھنے والے محقق فراز حسین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران پر حملے سے متعلق اپنی حکمت عملی بدلی ہے اور سفارتکاری کا رستہ اختیار کیا ہے۔ ان کی رائے میں امریکہ نے یہ دیکھ لیا تھا کہ ایران پر حملے کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔

ان کے مطابق مسقط مذاکرات سے متعلق دونوں ممالک نے پہلے خوب اپنی طاقت کا اظہار کیا اور امریکہ نے ایک فلوٹیلا تک روانہ کر کے خطے میں اپنی موجودگی میں مزید نمایاں اضافہ کیا اور جواب میں ایران نے بھی اس جنگ کو خطے تک لے جانے کی دھمکی دی۔

ان کے مطابق اس سارے دباؤ کے نتیجے میں امریکہ ایرانی حکومت کو کمزور کرنا چاہتا تھا اور یہ ایک اس کے لیے اپنی ساکھ کا مسئلہ بھی بن چکا تھا کہ وہ یہ دکھائے کہ اس نے ایران سے متعلق سخت ایکشن لیا ہے۔

فراز حسین کے مطابق ایران میں بھی مذاکرات کے حوالے سے تقسیم موجود ہے مگر سفارتکاری کی حمایت کرنے والے گروہ کو کامیابی ملی۔

فراز حسین کے مطابق ایران کسی حد تک جوہری پروگرام میں امریکہ کو کچھ رعائت دے سکتا ہے باقی وہ نہ تو وہ بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی پر سمجھوتہ کرے گا اور نہ ہی تہران خطے میں پراکسیز کی حمایت ترک کرے گا۔

ان کے مطابق بیلسٹک میزائل ایران کے لیے ڈیٹرنس کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ مزاحمتی گروہوں کی حمایت کرنا ایران کے آئین کا حصہ ہے جسے پر وہ امریکہ کو کوئی یقین دہانی نہیں کرا سکتے۔

ٹرمپ کا ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر محصولات کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان ممالک پر اضافی محصولات عائد کر سکتے ہیں جو ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھتے ہیں۔

اس آرڈر میں شرحِ محصول واضح نہیں کی گئی، تاہم 25 فیصد کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ محصولات ان تمام درآمدی اشیا پر لاگو ہوں گے جو ایسے ممالک سے امریکہ آتی ہیں جو براہِ راست یا بالواسطہ ایران سے سامان یا خدمات خریدتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اس آرڈر پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، لیکن ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے ایک بار پھر کہا کہ ’ایران کے لیے ایٹمی ہتھیار نہیں‘۔

ٹرمپ نے رواں سال کے آغاز میں بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر کہا تھا کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک پر 25 فیصد محصولات عائد کیے جائیں گے۔ اس وقت اس فیصلے کی عملی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق تازہ ترین ایگزیکٹو آرڈر ایران کے حوالے سے جاری 'قومی ہنگامی صورتحال' کی تصدیق کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ایران کو اس کے ایٹمی پروگرام، دہشت گردی کی حمایت، میزائل کی تیاری اور خطے میں عدم استحکام کے لیے جوابدہ ٹھہرا رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US