جب ماضی میں مانچسٹر یونائیٹڈ سے وابستہ رہنے والے کھلاڑی زیدان اقبال منگل کے روز عراقی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں اتریں گے تو وہ فٹبال ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کر دیں گے۔ لیکن یہ ریکارڈ اس ملک کا نہیں ہو گا جس کی وہ نمائندگی کر رہے ہوں گے۔
جب ماضی میں مانچسٹر یونائیٹڈ سے وابستہ رہنے والے کھلاڑی زیدان اقبال منگل کے روز عراقی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں اتریں گے تو وہ فٹبال ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کر دیں گے۔ لیکن یہ ریکارڈ اس ملک کا نہیں ہو گا جس کی وہ نمائندگی کر رہے ہوں گے۔
یہ لمحہ درحقیقت پاکستان کے شائقین کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوگا۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جس کی آبادی 24 کروڑ سے زیادہ ہے مگر اس کی فٹبال ٹیم کبھی بھی عالمی کپ تک نہیں پہنچ سکی۔
پاکستان نے اپنی پوری تاریخ میں کوالیفائنگ کا صرف ایک میچ جیتا ہے۔
فیفا کی عالمی درجہ بندی میں 198ویں نمبر پر موجود یہ جنوبی ایشیائی ملک اس کھیل میں بدترین کارکردگی دکھانے والے 15 ممالک میں شامل ہے۔ پاکستانی عوام نے یہ کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی پاکستانی کھلاڑی سب سے بڑے عالمی سٹیج پر ان کی نمائندگی کرے۔ اب تک ایسا کبھی نہ ہوا۔
زیدان اقبال نے مانچسٹر یونائیٹڈ اکیڈمی کے بعد ایف سی یوتریخت کے لیے کھیلنا شروع کیا۔ وہ عراق کی نمائندگی کر رہے ہیں اور اب ورلڈ کپ میں کھیلنے والے پہلے پاکستانی نژاد کھلاڑی بننے والے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جب انھیں اس اعزاز کا علم ہوا تو وہ ’حیران‘ رہ گئے۔ انھیں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق پر فخر ہے۔
انھوں نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’سچ کہوں تو مجھے خود بھی اس (ریکارڈ) کا علم نہیں تھا۔‘
’میں اس اکاؤنٹ کو فالو کرتا ہوں جس نے یہ پوسٹ کیا تھا (کہ میں مردوں کے عالمی کپ میں کھیلنے والا پہلا پاکستانی نژاد کھلاڑی ہوں) اور میں نے فوراً یہ پیغام اپنے والد کو بھیج دیا۔
’میرے خیال میں ہم دونوں ہی حیران تھے۔ جب میں عراق کے ساتھ عالمی کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کی کوشش کر رہا تھا تو میں نے ایسی کسی بات کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔‘
’میرے والد پاکستانی ہیں۔ میرے والد ایسی شخصیت ہیں جن کا میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ احترام کرتا ہوں اور جنھوں نے میرے کیریئر میں میری بہت مدد کی ہے۔‘
’میں عراق کے لیے کھیلتا ہوں، انگلینڈ میں پلا بڑھا ہوں۔ مگر میرے والد پاکستان میں پیدا ہوئے۔ میرے دادا کا تعلق بھی وہیں سے تھا۔ اس لیے مجھے اپنے خاندان کا بہت احترام ہے۔‘
زیدان اقبال مانچسٹر میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ وہ اپنے والد کی طرف سے پاکستانی اور اپنی والدہ کی طرف سے عراقی ہیں۔
باصلاحیت مڈفیلڈر زیدان اقبال کہتے ہیں کہ وہ دونوں ممالک کی نمائندگی پر فخر محسوس کرتے ہیں اور جب وہ میدان میں اترتے ہیں تو اپنے جوتوں پر دونوں ممالک کے پرچم پہن کر اس فخر کا اظہار کرتے ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے جوتوں پر اپنی شناخت کیوں ظاہر کرتے ہیں تو 23 سالہ کھلاڑی نے اپنے خاندان کے دونوں پہلوؤں کے لیے اپنے ’احترام‘ کو دہرایا۔
انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے بائیں پاؤں پر عراقی پرچم اور دائیں طرف پاکستانی پرچم پہنتا ہوں۔‘
’میرا خیال ہے کہ یہ اس لیے ہے کیونکہ میں دونوں طرف کا احترام کرتا ہوں۔‘
’جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں خود کو کس کے زیادہ قریب محسوس کرتا ہوں تو میں اس کا جواب نہیں دے سکتا۔ میرے لیے دونوں برابر ہیں۔ یہ احترام کی بات ہے اور ایسی چیز ہے جسے میں بہت فخر کے ساتھ ساتھ رکھتا ہوں۔‘
مانچسٹر یونائیٹڈ اکیڈمی کے بعد زیدان اقبال نے ایف سی یوتریخت کے لیے کھیلنا شروع کیا’امید ہے پاکستانی بچے یہ دیکھ کر متاثر ہوں گے‘
یہ پہلا موقع نہیں کہ جب زیدان اقبال نے اپنے پس منظر کے حوالے سے کوئی کامیابی حاصل کی ہو۔
انھیں انگلینڈ میں فٹبال دیکھنے والے شائقین ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر جانتے ہیں جو مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی سے آئے۔ وہ تقریباً 20 برس میں چیمپئنز لیگ میں کھیلنے والے پہلے جنوبی ایشیائی نژاد برطانوی بنے۔
عراقی فٹبالر کو امید ہے کہ ان کی کہانی اگلی نسل کے لیے ترغیب کا باعث بن سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں ابھی نوجوان ہوں مگر میں عالمی کپ میں کھیلنے والا پہلا پاکستانی کھلاڑی بنوں گا۔ اس لیے امید ہے کہ چند بچے جو فٹبالر بننے کا خواب دیکھتے ہیں، وہ اسے دیکھ کر یقین کریں گے کہ وہ بھی ایسا کر سکتے ہیں کیونکہ فٹبال ایک مشکل سفر ہے۔‘
’اگر آپ کسی بھی پیشہ ور کھلاڑی سے پوچھیں، تو یہ بالکل آسان نہیں ہوتا اور ہر ایک کو اتار چڑھاؤ کا سامنا ہوتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انٹرنیشنل فٹبالر بننے کے لیے ’بہت زیادہ وابستگی اور محنت درکار ہوتی ہے۔ اس لیے امید ہے کہ جب بچے لوگوں کو ایک پیشہ ور فٹبالر بننے کی کوشش کرتے دیکھتے ہیں یا مجھے دیکھتے ہیں تو وہ سوچیں گے کہ یہ آپ کہیں سے بھی تعلق رکھنے کے باوجود کامیاب ہو سکتے ہیں۔ (یعنی) کسی بھی علاقے سے جہاں سے بھی آپ ہوں، اور کسی بھی مذہب سے۔ امید ہے کہ وہ یہ دیکھیں گے اور اس سے متاثر ہوں گے۔‘
احمد شہزاد ’پاکستانی ٹیلنٹس‘ نامی سوشل میڈیا اکاؤنٹ چلاتے ہیں۔ یہ اکاؤنٹ ملک میں فٹبال اور دنیا بھر میں پاکستانی نژاد کھلاڑیوں کی پیش رفت کو اجاگر کرتا ہے۔
احمد نے بتایا کہ کس طرح ملک میں بہت سے شائقین عالمی کپ میں اقبال اور عراق کی حمایت کریں گے۔
شہزاد نے بی بی سی سپورٹ کو بتایا کہ ’پاکستان میں فٹبال کا ہر مداح زیدان اقبال کے بارے میں جانتا ہے۔‘
’تاریخی طور پر فٹبال کی اعلیٰ سطح پر پاکستان کی نمائندگی بہت کم رہی ہے، خاص طور پر ورلڈ کپ میں جو سب سے بڑا عالمی سٹیج ہے۔‘
’اور یہ بہت سے نوجوان پاکستانیوں کے لیے بڑی ترغیب ہے، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک یعنی پاکستانی نژاد برطانوی۔ یہ دیکھنا کہ کوئی شخص کھلے عام اپنی شناخت کو اپناتا ہے، جیسا کہ زیدان اقبال کرتے ہیں، اور اعلیٰ ترین سطح پر مقابلہ کرتے ہیں اس سے ہمارے لیے یہ کھیل زیادہ قابلِ یقین محسوس ہوتا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں بہت سے لوگوں کو یہ کہتے دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے پاس اب عالمی کپ میں حمایت کرنے کے لیے ایک ٹیم موجود ہے اور وہ صرف زیدان اقبال کی حمایت نہیں کریں گے بلکہ عراق کی بھی حمایت کریں گے کہ وہ ٹورنامنٹ میں جتنا آگے جا سکیں جائیں۔‘

’اگر ہم جیت گئے تو دنیا چونک جائے گی‘
عراق نے کوالیفائنگ کے دوران 21 میچز کا طویل اور کٹھن سفر طے کیا جو کسی بھی ملک سے زیادہ تھا۔ اس میں مختلف راؤنڈز اور پلے آف شامل تھے تاکہ وہ ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کرنے والی آخری ٹیم بن سکے۔
یہ ایشیائی ملک کے لیے ایک دیرینہ کامیابی ہے کیونکہ اس سے پہلے ان کی واحد شرکت 40 برس قبل میکسیکو 1986 میں ہوئی تھی جب وہ اپنے گروپ میں آخری نمبر پر رہے اور صرف ایک گول کر سکے۔
اگر وہ گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو زیدان اقبال کا خیال ہے کہ ان کا ملک ’دنیا کو چونکا دے گا‘ کیونکہ انھیں دو بار کے چیمپئن فرانس، ناروے کی ٹیم جس کی قیادت عالمی معیار کے کھلاڑی مارٹن اوڈیگارڈ اور ایرلنگ ہالانڈ کر رہے ہیں اور افریقہ کپ آف نیشنز کے فائنلسٹ سینیگال کا سامنا کرنا ہے۔
زیدان اقبال نے کہا کہ ’میرے خیال میں ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے۔‘
’ہم وہاں جا رہے ہیں۔ یہ 40 برس میں ہمارا پہلا عالمی کپ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 1986 کا عالمی کپ میکسیکو میں ہی تھا اور یہ ورلڈ کپ بھی میکسیکو میں ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک خوبصورت بات ہے۔‘
’لیکن ہم بغیر کسی دباؤ کے جا رہے ہیں۔ ہم انڈر ڈاگ ہیں۔ لوگ یہی توقع رکھتے ہیں کہ ہم ہار جائیں۔ تو اگر ہم جیت جائیں تو ہم دنیا کو حیران کر دیں گے۔‘
’یقیناً ہم سب محنت کریں گے۔ ہم سب پُرجوش ہیں اور جب آپ پُرجوش ہوتے ہیں اور محنت کرتے ہیں تو فٹبال میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ تو، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘