پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیر اہتمام ملک کی پہلی تین روزہ کوانٹم کمپیوٹنگ ہیکاتھون نیشنل سینٹر فار فزکس، اسلام آباد میں باقاعدہ آغاز کر دی گئی ہے۔
ہیکاتھون کا مقصد ملک میں کوانٹم ریسرچ کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور نوجوانوں کی سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔ اس پروگرام کو اقوام متحدہ اور یورپی تنظیم برائے نیوکلیئر تحقیق (CERN) کی بین الاقوامی معاونت بھی حاصل ہے۔
افتتاحی تقریب میں پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی، جبکہ ملک کی جامعات کے وائس چانسلرز، تحقیقی اداروں کے سربراہان اور وفاقی وزارتوں کے اہلکار بھی موجود تھے۔
ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ کوانٹم ٹیکنالوجی اب محض تصور نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکی ہے اور پیچیدہ مسائل کے حل میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ قومی مسائل کے حل میں جدت اور اختراع کی قیادت کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہیکاتھون پاکستان کی جدید سائنسی اور تکنیکی ترقی کی جانب عزم کا عملی مظہر ہے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔