بھارت کی ریاست کرناٹک کے شہر بیلاگاوی میں انسانیت، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک مسلمان جوڑے نے دو یتیم ہندو بچوں کو اپنا کر نہ صرف ان کی پرورش کی بلکہ ان کی مذہبی شناخت کو بھی برقرار رکھا۔
تفصیلات کے مطابق، تقریباً 20 برس قبل بیلاگاوی میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں دو کمسن بھائی اپنے والدین سے محروم ہوگئے۔ اس نازک موقع پر مہبوب حسن نائکواڑی اور ان کی اہلیہ نور جہاں نے انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بچوں کو اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ حالانکہ اس جوڑے کے اپنے بھی پانچ بچے تھے، لیکن انہوں نے دونوں یتیم بھائیوں کو اپنے بچوں کی طرح ہی محبت اور توجہ دی۔
خاص بات یہ رہی کہ مسلمان ہونے کے باوجود مہبوب اور نور جہاں نے ان بچوں کی ہندو شناخت اور مذہبی روایات کو مکمل احترام کے ساتھ برقرار رکھا، تاکہ وہ اپنی ثقافت اور عقیدے کے مطابق پرورش پا سکیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے ایک بھائی، سومشیکر نے اپنی تعلیم مکمل کی اور ایرو اسپیس مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ملازمت حاصل کرلی۔ اس اہم مرحلے پر بھی مہبوب اور نور جہاں نے والدین کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کے لیے اسی برادری سے دلہن تلاش کی اور پونم نامی لڑکی سے اس کی شادی طے کروائی۔
شادی کی تقریب روایتی ہندو رسومات کے مطابق منعقد ہوئی، جس میں دونوں مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مہبوب اور نور جہاں نے دلہا کے والدین کے فرائض بخوبی انجام دیے۔
مہبوب حسن نائکواڑی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میرا یقین ہے کہ اس ملک کے تمام لوگ آپس میں بھائی بہن ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ بچے میرے گھر میں پروان چڑھے، تعلیم حاصل کی اور اپنے قدموں پر کھڑے ہوئے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی ایک خاموش مگر طاقتور یاد دہانی ہے کہ خاندان صرف خون کے رشتوں یا مذہب سے نہیں، بلکہ محبت، خلوص اور انسانیت سے تشکیل پاتا ہے۔