عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی فوجی اور سفارتی تنصیبات پر ڈرونز اور راکٹوں سے بڑے پیمانے پر حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق بغداد ایئرپورٹ کے قریب واقع امریکی فوجی اڈے 'وکٹوریہ بیس' کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد اڈے کے ایک حصے میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ عراقی مسلح گروہوں اور بعض غیر ملکی خبر رساں اداروں نے ان حملوں میں کئی امریکی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم امریکی حکام نے تاحال جانی نقصان کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور صرف انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا ذکر کیا ہے۔
ان حملوں کے فوراً بعد بغداد کے گرین زون میں واقع امریکی سفارت خانے کو بھی ڈرونز اور راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا، جہاں سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔
ان حملوں کی ذمہ داری 'اسلامک ریزسٹنس ان عراق' نامی گروہ (خصوصاً کاتب حزب اللہ) نے قبول کی ہے، جسے وہ خطے میں جاری کشیدگی کا ردِعمل قرار دے رہے ہیں۔
سیکیورٹی کے سنگین خطرات کے پیشِ نظر بغداد میں امریکی سفارت خانے نے تمام امریکی شہریوں کو فوری طور پر عراق چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے اور ایران نواز ملیشیا گروہوں کی جانب سے مزید حملوں کے شدید خطرے سے خبردار کیا ہے۔