ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ 22 ویں روز میں داخل ہوگئی ہے، جہاں مسلسل فضائی حملوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باوجود مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہو سکے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کئی روز بعد منظرِ عام پر آئے اور اعتراف کیا کہ صرف فضائی کارروائیوں سے ایران میں حکومت کی تبدیلی ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل سازی اور یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم حتمی کامیابی کے لیے زمینی فوجی کارروائی ناگزیر ہوسکتی ہے، جس کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مزید جنگی جہاز، تقریباً چار ہزار میرینز اور سیلرز خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔
امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس باکسر سمیت دیگر جنگی جہازوں کی روانگی اور ریپڈ رسپانس فورس کی ممکنہ تعیناتی سے ایران کے خلاف زمینی حملے کی قیاس آرائیاں مزید شدت اختیار کر گئی ہیں۔