سفارتی کوششوں کے باوجود مشرق وسطیٰ میں جنگ اور حملوں کی شدت برقرار ہے۔
اسرائیل نے تہران پر شدید بمباری کی ہے، قم اور اُرومی شہر میں بھی رہائشی عمارتوں پر حملوں کے نتیجے میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم 13 افراد شہید ہوئے، جبکہ ملبے میں دبے زخمیوں کی تلاش جاری ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کی جانب سے بھی خطے میں امریکی اڈوں اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنانی سرحدی دیہات میں اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، حزب اللہ نے 24 گھنٹوں کے دوران 21 اسرائیلی ٹینک تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اسرائیل نے ایک اور فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے مزید فوجی سازو سامان لبنان سرحد کی جانب بھیج دیا۔
دوسری جانب امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غورکر رہے ہیں، پینٹاگون مزید فوجی بھیجنے کے منصوبے کا جائزہ لے رہا ہے، ممکنہ طور پر دستوں میں انفینٹری اور بکتربند گاڑیاں شامل ہوں گی۔