وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے معاونین کو بتایا وہ ہرمز کو دوبارہ کھولے بغیر جنگ کے خاتمے کیلیے تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز بند رہے تب بھی فوجی مہم ختم کی جا سکتی ہے، آبنائے ہرمز پر تہران کی مضبوط گرفت برقرار رہنے کا امکان ہے۔
امریکی انتظامیہ کو خدشہ ہے آبی گزرگاہ دوبارہ کھولنا ایک پیچیدہ آپریشن بن سکتا ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کہا ہے کہ بند مقام کھولنے کا مشن تنازع کو چھ ہفتوں سے آگے بڑھا دے گا۔ امریکا کا بنیادی ہدف ایرانی بحریہ اور میزائلوں کے ذخیرے کو روکنا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ تہران پر سفارتی دباؤ ڈال کر تجارت کا آزادانہ بہاؤ بحال کیا جائے۔ سفارتکاری ناکام ہوئی تو اتحادیوں پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا آبنائے ہرمز کھولنے کی ذمہ داری یورپ اور خلیجی اتحادیوں پر ڈال سکتا ہے۔