وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں جاری جنگی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی معاشی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے قومی یکجہتی، اتحاد و اتفاق، سیاسی استحکام اور اجتماعی قربانی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی جبکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر کم اہم منصوبوں پر کام روکنا ہوگا تاکہ عام آدمی اور غریب طبقے کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
جمعرات کو خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کفایت شعاری کے ذریعے فنڈز جمع کرنا ہوں گے اور ان وسائل کو زرعی شعبے، پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کے تحفظ پر خرچ کرنا ہوگا تاکہ عوام مہنگائی کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہوں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک تھے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور پاکستان نے ایک مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کیلیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ بندی کیلیے حتی المقدور کوشش کر رہا ہے اور یہ سفارتی کاوشیں اب بھی جاری ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایران سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے متعدد رابطے کیے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی اس حوالے سے کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے خطے میں امن قائم ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ دو برسوں میں اجتماعی کوششوں سے معیشت کو میکرو سطح پر مستحکم کیا اور ملک ترقی و خوشحالی کی جانب بڑھ رہا تھا، تاہم جنگی صورتحال نے معاشی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی پرچم بردار دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں جبکہ مزید 20 بحری جہازوں کو بھی وہاں سے گزارنے کے انتظامات کئے گئے ہیں اور اس حوالے سے آئندہ چند روز میں مزید پیشرفت متوقع ہے۔
وزیراعظم کے مطابق جنگ کے ابتدائی مرحلے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے تک اضافہ کرنا پڑا، جو کسانوں، مزدوروں، دکانداروں اور عام شہریوں کیلیے بڑا معاشی بوجھ تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے وفاقی کابینہ کی دو ماہ کی تنخواہیں روک دیں، تیل کی کھپت میں 50 فیصد کمی کی، 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کا استعمال بند کیا، پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ وفاقی حکومت اب تک 129 ارب روپے کا بوجھ برداشت کر چکی ہے۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اشرافیہ کو ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جبکہ حکومت کی پہلی ترجیح کمزور اور غریب طبقے کا تحفظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے ایسے کم اہم ترقیاتی منصوبے روکیں جنہیں وقتی طور پر مؤخر کیا جا سکتا ہے، اور ان وسائل کو عوامی ریلیف کیلیے استعمال کیا جائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت زرعی شعبہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ گندم کی کٹائی اور آئندہ فصلوں کی بوائی کیلیے ڈیزل اور پٹرول ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی تحفظ دینا ہوگا تاکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر نہ ہو اور عام آدمی پر مہنگائی کا مزید بوجھ نہ پڑے۔
وزیراعظم نے صدر مملکت، بلاول بھٹو زرداری، وزرائے اعلیٰ اور پارلیمنٹ ارکان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ قومی یکجہتی، اتحاد اور اتفاق کی علامت ہے، اور اسی جذبے سے پاکستان موجودہ چیلنجز پر قابو پا سکتا ہے۔